اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 287 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 287

287 آنحضرت سے بحیثیت معلم و مربی اعظم اسوہ انسان کامل حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو ہمارے گھر تشریف لائے اور مجھے اور فاطمہ کو تہجد کے لئے بیدار کیا۔پھر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے اور کچھ دیر نوافل ادا کئے۔اس دوران ہمارے اٹھنے کی کوئی آہٹ وغیرہ محسوس نہ کی تو دوبارہ تشریف لائے اور ہمیں جگایا اور فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔حضرت علی کہتے ہیں میں آنکھیں ملتا ہوا اُٹھا اور بڑ بڑاتے ہوئے کہہ بیٹھا " خدا کی قسم ! جو نماز ہمارے لئے مقدر ہے ہم وہی پڑھ سکتے ہیں۔ہماری جانیں اللہ کے قبضہ میں ہیں وہ جب چاہے ہمیں اُٹھا دے۔رسول کریم واپس لوٹے۔آپ نے تعجب سے اپنی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے پہلے میرا ہی فقرہ دہرایا کہ ہم کوئی نماز نہیں پڑھ سکتے سوائے اس کے جو ہمارے لئے مقدر ہے“ پھر یہ آیت تلاوت کی وَكَانَ الْإِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْ ءٍ جَدَلًا که انسان بہت بحث کرنے والا ہے۔(احمد) 2 ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم چھ ماہ تک فجر کی نماز کے وقت حضرت فاطمہ کے دروازے کے پاس گزرتے ہوئے فرماتے رہے۔”اے اہل بیت ! نماز کا وقت ہو گیا ہے اور پھر سورۃ احزاب کی آیت: 33 پڑھتے کہ اے اہل بیت ! اللہ تم سے ہر قسم کی گندگی دور کرنا چاہتا ہے اور تم کو اچھی طرح پاک کرنا چاہتا ہے۔“ (ترمندی) 3 رسول کریم نے اپنے تمام اعزہ واقارب کو اور خاص طور پر اپنی بیٹی فاطمہ کو آپ نے کھول کر سنا دیا تھا کہ اللہ کے مقابل پر میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔تمہارے عمل ہی کام آئیں گے۔( بخاری )4 رسول کریم نے اپنی اولاد کی تربیت کی بنیاد محبت الہی پر رکھی تاکہ وہ اللہ کی محبت میں پروان چڑھیں اور یہ محبت ان کے دل میں ایسی گھر کر جائے کہ وہ غیر اللہ سے آزاد ہو جائیں۔چنانچہ نبی کریم حضرت حسن و حسین کو گود میں لے کر دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔“ ( احمد ) 5 آپ نے حضرت فاطمہ کی شادی پر کمال سادگی سے انہیں حسب توفیق ضرورت کی چند چیز میں عطا فرما ئیں۔بعد میں جب انہوں نے خادم کا مطالبہ کیا تو ذکر الہی کی طرف توجہ دلا کر سمجھایا کہ خدا کی محبت میں ترقی کرو۔اللہ خود تمہاری ضرورتیں پوری فرمائے گا۔تم خدا کو نہ بھولو وہ بھی تمہیں یا در کھے گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کو ان کی شادی پر ایک کمبل ، چمڑے کا ایک تکیہ (جس میں کھجور کے پتے تھے )۔ایک آٹا پیسنے کی چکی ، ایک مشکیزہ اور دو گھڑے دیئے تھے۔ایک دن حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ کنوئیں سے پانی کھینچ کھینچ کر میرے تو سینے میں درد ہونے لگا ہے۔تمہارے ابا کے پاس کچھ قیدی آئے ہیں، جا کر درخواست کرو کہ ہمیں بھی ایک خادم عطا ہو۔فاطمہ کہنے لگیں خدا کی قسم! میرے تو خود چکی پیس پیس کر ہاتھوں میں گئے پڑ گئے ہیں۔چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔آپ نے پوچھا کہ کیسے آنا ہوا؟ عرض کیا کہ سلام عرض کرنے آئی ہوں۔پھر انہیں حضور سے کچھ مانگتے ہوئی شرم آئی اور واپس چلی گئیں۔حضرت علی نے پوچھا کہ کیا کر کے آئی ہو؟ وہ بولیں کہ میں شرم کے مارے کوئی سوال ہی نہیں کر سکی۔تب وہ دونوں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور کی خدمت میں اپنا حال زار بیان کر کے خادم کے لئے درخواست کی۔رسول کریم نے فرمایا خدا کی قسم ! میں تمہیں دے