اسوہء انسانِ کامل — Page 259
اسوہ انسان کامل 259 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ مگر ان قبائل کا عمومی رد عمل یہی ہوتا تھا کہ ایک شخص کی قوم اس کے بارہ میں زیادہ بہتر جانتی ہے۔وہ شخص ہماری اصلاح کیسے کر سکتا ہے جس نے اپنی قوم میں فساد برپا کر رکھا ہے اور خود اس کی قوم نے اسے دھتکار دیا ہے؟ ( بیہقی ) 31 میلوں پر تبلیغ ایام حج کے بعد مکہ کے نواح میں عکاظ ، ذوالمجاز اور مجنہ مقام پر میلے لگا کرتے تھے جہاں تجارت اور خرید وفروخت کے ساتھ رنگ و طرب کی محفلیں بھی سجائی جاتیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ہی دھن سوار تھی کہ شاید کوئی سعید روح یہاں مل جائے اور پیغام خدا وندی پہنچانے کے لئے کوئی راہ نکلے۔چنانچہ آپ ان میلوں پر پیغام پہنچاتے۔ہر چند کہ اس راہ میں روکیں پیدا کی جاتیں اور آپ کو اذیتیں دی جاتیں مگر آپ یہ فریضہ ادا کرنے سے کبھی تھکے نہ ماندہ ہوئے۔ربیعہ بن عباد بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو ذ والمجاز کے میلے میں دیکھا۔آپ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے تھے۔فرماتے تھے کہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو نجات پا جاؤ گے۔اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔آپ مکہ کے بازار اور گلی گلی میں جا کر منادی کرتے۔لوگ آپ پر ٹوٹ پڑتے تھے مگر کوئی مثبت جواب نہ دیتا تھا لیکن آپ کمال استقامت کے ساتھ مسلسل اپنی بات دہراتے جاتے تھے۔آپ کے پیچھے لمبے بالوں والا سفید رنگ کا ایک شخص تھا جس کی آنکھ بھینگی تھی۔وہ کہتا تھا " اے لوگو یہ شخص تم سے لات و عزمی کو چھڑوانا چاہتا ہے۔یہ صابی (بے دین ) اور جھوٹا ہے۔ربیعہ نے اپنے باپ سے پوچھا کہ یہ کون ہے تو انہوں نے بتایا کہ آگے محمد بن عبد اللہ ہیں جو نبوت کے دعویدار ہیں اور ان کے پیچھے ان کا چچا ابولہب ہے۔(احمد) 32 ذ والمجاز کے میلے کا ایک اور نظارہ ابو طارق ” یوں بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کوذ والمجاز میں دیکھا۔آپ سرخ قبا پہنے تو حید کی منادی کر رہے تھے۔ایک شخص آپ کے پیچھے پیچھے پھر برساتا جاتا تھا جس سے آپ کی پنڈلیاں اور ٹخنے زخمی ہو رہے تھے۔وہ کہتا تھا اے لوگو! اس کی بات کبھی نہ ماننا۔( الحلبیہ ( 33 تیسرا دردناک نظارہ اشعث بن سلیم نے کنانہ کے ایک شخص سے روایت کیا ہے کہ ذوالمجاز کے میلے میں اس نے رسول اللہ کی تبلیغ حق کے دوران ابو جہل کو آپ کا پیچھا کرتے دیکھا۔وہ آپ پر خاک اڑاتا جاتا اور کہتا تھا اے لوگو ! کہیں یہ شخص تمہیں تمہارے دین سے بہکا نہ دے۔یہ تو چاہتا ہے کہ تم لات و عزیٰ کا دین ترک کر دو۔(احمد) 34 تبلیغ حق کے دوران رسول کریم کو دی گئی تکالیف میں سے طائف کے اس اذیت ناک دن کے ذکر کے بغیر تبلیغی مہمات کا تذکرہ مکمل نہیں ہوتا۔وہی دن جسے خود رسول خدا نے اپنی زندگی کا سخت ترین دن قرار دیا۔