اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 258 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 258

اسوہ انسان کامل 258 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ لازمی امر تھا۔جس کے نتیجہ میں ان کی قبائلی وحدت کے دینی حمیت میں تبدیل ہونے کے سامان ہوئے۔اگر چہ اس دور کے تفصیلی تبلیغی حالات بہت کم ملتے ہیں تا ہم اس دور میں مذکورہ تبلیغی عوامل کی اہمیت نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔شعب ابی طالب کے زمانہ میں مسلمانوں کے رابطے کا دوسرا موقع مکہ کے اُن شرفاء سے تھا جو خفی طور پر مسلمانوں کی مدد کرتے اور انہیں کچھ اجناس پہنچاتے رہتے تھے۔یہ لوگ مسلمانوں کی مظلومیت کے باعث ہمدردی کے علاوہ ان کی نیکی و شرافت اور حسن کردار کی وجہ سے ان کے لئے نرم گوشہ ر کھتے تھے۔اسیری کے ان ایام میں رابطے کا تیسرا ذریعہ بیرونی تجارتی قافلے تھے جو اہل مکہ کی پابندیوں سے آزاد تھے۔مسلمان ان سے کچھ ضرورت کی چیزیں خرید لیا کرتے تھے۔یوں ان سے بھی رابطہ تبلیغ کا ذریعہ بنتا تھا۔بعض مشرک سرداران قافلوں کو تجارت سے تو منع نہ کر سکتے تھے البتہ ان کے دام بڑھانے کی کوشش ضرور کرتے تھے تا کہ مہنگائی کے نتیجہ میں مسلمان مزید مشکل میں پڑیں۔چنانچہ ابولہب تاجروں کو کہتا تھا کہ محمدؐ کے ساتھیوں کے لئے چیزیں اتنی مہنگی کر دو کہ وہ تمہاری کوئی چیز بھی خرید نہ سکیں اس پر وہ قیمتیں کئی گنا بڑھا دیتے تھے اور ابولہب انہیں زیادہ منافع دے کر ان کا سارا مال خود خرید لیتا تھا۔( ابونعیم ) 28 محصوری کے زمانہ میں مسلمانوں کے لئے رابطہ کا چوتھا موقع حج کا تھا۔عربوں کے رواج کے مطابق حج سے کسی کو روکا نہیں جاتا تھا اس لئے حج کے موسم میں مسلمان آزادانہ گھاٹی سے باہر نکلتے۔رسومات حج ادا کرتے۔باہر سے آنے والوں سے رابطے بھی کرتے جنہیں مسلمانوں کی مظلومیت کا حال سن کر لازماً ہمدردری پیدا ہوتی۔اس لحاظ سے شعب ابی طالب کا زمانہ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے نتیجہ میں دشمنان اسلام کے نت نئے مظالم سے مسلمانوں کی حفاظت اور بچاؤ کے ساتھ ان کی تبلیغی کا وشوں کو مخصوص کرنے نیز تربیت پر اُن کی تو جہات مرکوز کرنے کا زمانہ بن گیا۔پختہ مسلمانوں کے صبر واستقامت کا بھی امتحان ہوا اور وہ اس میں کامیاب ٹھہرے۔حج کے موقع پر پیغام حق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولین مخاطب تو ساری عرب قوم تھی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکہ کی بستی میں مبعوث فرمایا جوام القری یعنی تمام بستیوں کا مرکز تھی۔جہاں سارے عرب سے دین ابراہیمی سے نسبت رکھنے والے لوگ حج وعمرہ کے لئے آتے تھے۔رسول اللہ ان قبائل کے لوگوں کے پاس تشریف لے جاتے اور انہیں پیغام حق پہنچا کر سوال کرتے کہ کوئی ہے جو میرا مددگار ہو؟ کوئی ہے جو میرا ساتھ دے اور مجھے اپنے ہاں پناہ دے تاکہ میں اُن کے قبیلے میں جا کر اپنے رب کا پیغام پہنچانے کا حق ادا کر سکوں۔جو ایسا کرے میں اسے جنت کا وعدہ دیتا ہوں۔( ترمذی ) 29 ایک دفعہ ہمدان قبیلہ کے ایک شخص نے حامی بھری کہ وہ آپ کو ساتھ لے جائے گا۔آپ نے اس سے پوچھا کہ اس کا قوم میں کیا مقام ہے؟ بعد میں وہ ڈر گیا کہ کہیں اس کی قوم خلاف ہی نہ ہو جائے۔وہ اگلے سال آنے کا وعدہ کر کے چلا گیا۔( بیہقی ) 30