اسوہء انسانِ کامل — Page 248
اسوہ انسان کامل 248 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ ایک واقعہ قبیلہ از دشنوہ کے سردار ضماد کا ہے جو بیماروں کا علاج جھاڑ پھونک اور دم سے کیا کرتا تھا۔جب وہ مکہ آیا تو اس نے بعض مخالفین اسلام کو کہتے سنا کہ محمد تو دیوانہ اور مجنون ہے۔ضماد نیک طبع انسان تھا۔اس کے دل میں خیال آیا کہ میں اس شخص سے ملتا ہوں۔شاید اللہ تعالیٰ میرے ہاتھ پر ہی اسے جنون کی بیماری سے شفا عطا فرمادے۔ضماد خود بیان کرتے ہیں کہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ اے محمد ! میں دم سے بیماروں کا علاج کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ میرے ہاتھ پر جسے چاہے شفا عطا فرماتا ہے۔کیا آپ مجھ سے علاج کرانا پسند کریں گے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے کچھ ارشاد فرمانے سے قبل حسب عادت مسنون خطبہ کے تمہیدی کلمات ہی پڑھے تھے ( یہ عربی خطبہ، جمعہ وغیرہ میں پڑھا جاتا ہے ) کہ انہی کلمات نے ضماد کے دل پر گہرا اثر کیا۔اس نے کہا آپ دوبارہ یہ کلمات مجھے سنائیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پڑھا۔الحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهِ ۚ وَنَسْتَعِيْنُهُ ۚ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَاهَادِيَ لَهِ وَاشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ یعنی تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔ہم اس کی حمد کرتے اور اس سے مدد کے طالب ہیں۔جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔رسول کریم نے ضماد کی خواہش پر تین بار یہ کلمات اُسے سنائے۔ضعتماد بظاہر ایک بدوی تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے فراست عطا کی تھی۔جس پیغام کو مکہ کے دانشور ابوالحاکم نے تکبر کی راہ سے رو کر دیا خدا ترس ضماد نے وہ پاکیزہ کلمات سنتے ہی بے ساختہ عرض کیا ” میں نے بڑے بڑے کاہنوں جادوگروں اور شاعروں کی مجالس دیکھی اور سنی ہیں مگر آج تک ایسے خوبصورت کلمات کہیں نہیں سنے جن کا اثر سمندر کی گہرائی تک ہے۔آپ ہاتھ بڑھائیں میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں۔“ وہ ضماد جو حکیم اور معالج بن کر آیا تھا اسے رسول اللہ کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے روحانی شفا عطا فرمائی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہ شخص اپنے قبیلہ کا با اثر اور مجھدار سردار ہے۔آپ نے اس کی بیعت لیتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم اپنی قوم کی طرف سے بھی ان کی نمائندگی میں بیعت کرتے ہو کہ انہیں بھی اسلام کی تعلیم پر کار بند کرو گے؟ ضماد نے کمال اعتماد سے اپنی قوم کی نیابت میں عہد بیعت باندھا۔اس غائبانہ عہد بیعت کا بھی مسلمانوں نے اتنالحاظ کیا کہ بعد کے زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسی مہم پر بھجوائے ہوئے اسلامی دستہ کا گزرضماد کی قوم کے پاس سے ہوا اور امیر دستہ کا جب اس قوم سے تعارف ہوا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ ان لوگوں سے کوئی چیز ز بر دستی تو نہیں لی گئی ؟ پھر یہ معلوم ہونے پر کہ دو پہر کے کھانے کے لئے کچھ سامان لیا گیا ہے امیر لشکر نے فرمایا یہ فوراً واپس کر دیا جائے کیونکہ یہ ضماد کی قوم ہے جس کی طرف سے ان کے سردار نے اسلام قبول کرنے کا اظہار کیا ہوا ہے۔(مسلم ) 13