اسوہء انسانِ کامل — Page 237
237 آنحضرت کی صحابہ سے محبت اور صحابہ کا عشق رسول اسوہ انسان کامل کھائی اور روٹی پیٹ بھر کر کھائی تو کھجور سے سیر نہیں ہوئے۔اس تکلیف دہ یاد نے مجھے بے اختیار رلا دیا۔( ابن سعد ) 48 ایک صحابیہ نے ایک دفعہ رسول اللہ کے لئے لباس کی ضرورت محسوس کی تو ایک خوبصورت چادر ہاتھ سے کڑھائی کر کے لے آئیں اور حضور کی خدمت میں نذر کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ ! میری خواہش ہے کہ آپ یہ چادر خود زیب تن فرمائیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی ضرورت کا یہ انتظام ہونے پر شکریہ کے ساتھ اسے قبول کیا اور وہ چادر پہن کر مسجد میں تشریف لائے۔ایک شخص نے دیکھ کر کہا اے اللہ کے رسول ! یہ کتنی خوبصورت چادر ہے؟ آپ مجھے ہی عطا فرما دیں۔آپ نے فرمایا ” اچھا یہ آپ کی ہوئی" نبی کریم جب مجلس سے اٹھ کر تشریف لے گئے تو صحابہ نے اس شخص سے کہا کہ تم نے حضور سے چادر مانگ کر اچھا نہیں کیا، خصوصاً جب کہ حضور کو اس کی ضرورت بھی تھی اور تمہیں کو پتہ ہے کہ رسول اللہ سے کچھ مانگا جائے تو آپ کبھی انکار نہیں فرماتے۔وہ صحابی کہنے لگے بیچ پوچھو تو میں نے بھی برکت کی خاطر یہ پہنی ہوئی چادر مانگی ہے۔میری خواہش ہے کہ مرنے کے بعد میرا کفن اسی چادر سے ہو جو رسول اللہ کے بدن سے مس ہوئی۔( بخاری ) 49 حضرت ام سلیم بسا اوقات کھانا بنوا کے رسول اللہ کے گھر بھجوا دیتی تھیں۔حضرت زینب کی شادی کے موقع پر بھی حضرت ام سلیم نے کافی سارا کھانا بنوا کے بھیجوا دیا جس سے رسول اللہ نے دعوت ولیمہ کا انتظام فرمایا۔( بخاری ) 50 ایک انصاری خاتون مینا نامی تھیں۔ان کا غلام بڑھئی کا کام کرتا تھا۔ان کے دل میں خیال آیا کہ رسول اللہ کے مجلس میں بیٹھنے کے لئے لکڑی کی کوئی اچھی چیز بنوا کر دیں۔چنانچہ رسول اللہ سے انہوں نے عرض کیا میں آپ کے بیٹھنے کے لئے کوئی چیز بنوانا چاہتی ہوں۔حضور نے خوشی سے اجازت دیدی تو انہوں نے وہ منبر بنوایا جس پر رسول اللہ خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔(بخاری) 51 اُحد کے دن جب مدینہ میں یہ خبر پھیل گئی کہ رسول اللہ شہید ہو گئے ہیں۔مدینہ میں عورتیں رونے اور چلانے لگیں۔ایک عورت کہنے لگی تم رونے میں جلدی نہ کرو میں پہلے پتہ کر کے آتی ہوں ، وہ گئی تو پتہ چلا کہ اس کے سارے عزیز شہید ہو چکے تھے۔اس نے ایک جنازہ دیکھا، پوچھا یہ کس کا جنازہ ہے۔بتایا گیا کہ یہ تمہارے باپ کا جنازہ ہے۔اس کے پیچھے تمہارے بھائی، خاوند اور بیٹے کا جنازہ بھی آ رہا ہے۔وہ کہنے لگی مجھے یہ بتاؤ رسول اللہ کا کیا حال ہے؟ لوگوں نے کہا نبی کریم وہ سامنے تشریف لا رہے ہیں۔وہ رسول اللہ کی طرف لپکی اور آپ کے کرتے کا دامن پکڑ کر کہنے لگی میرے ماں باپ آپ پر قربان اے اللہ کے رسول ! جب آپ زندہ ہیں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔( بیشمی )52 الغرض کیا مرد اور کیا عورتیں اور کیا بچے سب ہی اس پاک رسول کے دیوانے اور اس کے منہ کے بھوکے تھے اور یہ کمال آنحضور کے اخلاق فاضلہ کا تھا جن کے باعث ایک دنیا آپ کی گروید تھی، آج تک ہے اور رہے گی۔انشاءاللہ۔۔۔۔۔۔۔