اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 235 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 235

235 آنحضرت کی صحابہ سے محبت اور صحابہ کا عشق رسول اسوہ انسان کامل جاب کے والد حضرت عبد اللہ احد میں شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے جابر کے علاوہ سات بیٹیاں چھوڑیں۔رسول اللہ حضرت جابر کا بہت خیال رکھتے تھے۔حضرت عبداللہ کی وفات کے بعد یہودی ساہوکاروں کا ایک بھاری قرض حضرت جابر پر تھا۔رسول اللہ کی دعا کی برکت سے وہ ادا ہوا۔( بخاری )42 ایک سفر میں جابر کا اونٹ تھک کر اڑ گیا تو رسول اللہ نے اس کے لئے دعا کی اور وہ بھاگنے لگا۔( بخاری )43 جابر کو بھی رسول اللہ کی شفقتیں دیکھ کر آپ سے ایک والہانہ عشق ہو گیا تھا اور رسول اللہ کی کوئی تکلیف ان سے دیکھی نہ جاتی تھی۔حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احزاب کے موقع پر خندق کی کھدائی کے دوران صحابہ کو فاقہ تھا۔رسول اللہ نے بھی اس وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے اور مسلسل تین روز سے ہم نے کچھ کھایا پیا نہیں تھا۔حضرت جابر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ سے اجازت لے کر گھر گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے رسول کریم کو ایسے حال میں دیکھا ہے جس پر صبر کرنا ناممکن ہے۔تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے؟ پھر میں نے ایک بکر وٹہ ذبح کیا، میری بیوی نے جو ہیں لئے ، گوشت جب ہنڈیا میں رکھ دیا تو میں رسول کریم کے پاس حاضر ہوا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے گھر تھوڑا سا کھانا ہے آپ تشریف لائیں اور اپنے ساتھ ایک دو افراد کو بھی لے لیں، آپ نے پوچھا کہ کھانا ہے کتنا ؟ میں نے تفصیل عرض کر دی، آپ نے فرمایا کہ بہت کافی ہے۔پھر مجھے فرمایا کہ جاؤ اور بیوی سے کہو کہ ہنڈیا چولہے سے نہ اُتارے اور روٹیاں تنور میں لگانی شروع نہ کرے یہاں تک کہ میں آجاؤں۔پھر صحابہ سے فرمایا کہ چلو جابر نے ہماری دعوت کی ہے۔چنانچہ مہاجرین اور انصار حضور کے ساتھ چل پڑے۔جابڑ کہتے ہیں کہ میں بیوی کے پاس گیا تو وہ بولی تیرا بھلا ہورسول اللہ تو سب مہاجرین و انصار کو ہمراہ لے آئے ہیں۔کیا حضور نے تم سے کھانے کی مقدار کا پوچھ لیا تھا۔میں نے کہا ”ہاں“۔حضور نے صحابہ کو خاموشی سے جائز کے گھر داخل ہونے کی تلقین فرمائی اور روٹی تو ڑ تو ڑ کر اس پر گوشت رکھتے گئے۔ہنڈیا اور تنور کو آپ نے ڈھانپ کر رکھا ہوا تھا۔کھانا لے کر پھر ڈھانپ دیتے تھے اور اپنے صحابہ کو دیتے جاتے تھے۔اس طرح حضور تصحابہ کو کھانا کھلاتے رہے یہاں تک کہ سب نے سیر ہو کر کھانا کھا لیا اور پھر بھی کھانا بیچ رہا۔تب آپ نے جابڑ کی بیوی سے فرمایا کہ خود بھی کھاؤ اور لوگوں کو تحفہ کے طور پر بھجواؤ کیونکہ آجکل لوگ سخت بھوک اور فاقہ کہ حالت میں ہیں۔( بخاری )44 حضرت کعب بن عجرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر دیکھا میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں؟ حضور کے مزاج تو بخیر ہیں۔آپ نے کمال بے تکلفی سے فرمایا کہ میں نے تین روز سے کھانا نہیں کھایا۔کعب کہتے ہیں میں اسی وقت کھانے کی تلاش میں با ہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک یہودی اپنے اونٹوں کو پانی پلا رہا تھا۔میں نے اس کے اونٹوں کو پانی پلانے کے لئے ایک ڈول پانی کے عوض ایک