اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 234 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 234

اسوہ انسان کامل 234 آنحضرت کی صحابہ سے محبت اور صحابہ کا عشق رسول تیار کیا اس کی کمان کم سن اسامہ کے سپر دفرمائی۔( بخاری ) 38 اسامہ حضور کی آخری بیماری میں آپ سے الوداعی ملاقات کرنے آئے وہ بیان کرتے ہیں۔”جب میں حاضر ہوا تو حضور نے دونوں ہاتھ مجھ پر رکھے اور پھر دونوں ہاتھ اٹھائے۔میں جانتا ہوں کہ حضور میرے لئے دعا کر رہے تھے۔“ سبحان اللہ آقا کی غلام پر شفقت کا عجیب عالم ہے کہ مرض الموت میں بھی اس یتیم بچہ کے لئے دعا گو ہیں گویا اسے خدا کے حوالے کر رہے ہیں دراصل یہ آپ کی طبعی محبت کا اظہار تھا۔غزوہ موتہ میں اسامہ کے والد حضرت زیڈ کی شہادت پر رسول اللہ نے اسامہ کی بہن کو روتے دیکھا تو آپ بھی رو پڑے۔سعد بن عبادہؓ نے عرض کی حضور یہ کیا فرمایا یہ جذبہ محبت ہے۔رسول اللہ کے باوفا غلاموں میں ثوبان بن مالک بھی تھے۔ایک دفعہ روتے ہوئے حاضر ہوئے۔رسول اللہ نے حال پوچھا تو کہنے لگے یا رسول اللہ! اس دنیا میں تو جب جی کرتا ہے آکر آپ کی زیارت کر لیتے ہیں۔اگلے جہاں میں تو آپ بلند مقامات پر ہوں گے تب آپ تک رسائی کیسے ہوگی؟ یہ خیال بے چین کر دیتا ہے۔رسول کریم نے ثوبان کو خوشخبری دی کہ آدمی اس کے ساتھ ہوتا ہے جس کے ساتھ اسے محبت ہو۔( بخاری ) 39 حجرت ربیعہ اسلمی رسول اللہ کے ایک اور خادم تھے۔ایک دن نبی کریم نے ان کی خدمتوں سے خوش ہو کر انعام سے نوازنا چاہا۔فرمایا ربیعہ مانگو کیا مانگتے ہو؟ کچھ سوچ کر ربیعہ نے کہا یا رسول اللہ جنت میں آپ کی رفاقت چاہیے۔فرمایا کچھ اور مانگ لو۔عرض کیا بس یہی کافی ہے۔رسول کریم نے فرمایا پھر ڈھیر سارے سجدوں، دعاؤں اور نمازوں سے میری مدد کرنا۔(مسلم) 40 اپنے محسن کی خدمت کا جذبہ حضرت جابر اپنے والد عبدالله بن حرام کے بارہ میں یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ انہوں نے حلوا تیار کر وایا پھر مجھے کہنے لگے کہ رسول اللہ کی خدمت میں تحفہ پہنچا کر آؤ۔میں لے کر گیا، حضور فرمانے لگے ”جا بڑا گوشت لائے ہو؟“ میں نے عرض کیا ”نہیں اے اللہ کے رسول ! میرے والد نے یہ حلوا آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے بھجوایا ہے ، آپ نے فرمایا ” ٹھیک ہے۔اور اسے قبول فرمایا۔میں جب واپس گیا تو والد نے پوچھا کہ رسول اللہ نے تمہیں کیا فرمایا تھا۔میں نے عرض کر دیا کہ حضور نے پوچھا تھا کہ گوشت لائے ہو؟ میرے والد کہنے لگے کہ معلوم ہوتا ہے کہ میرے آقا رسول اللہ کو گوشت کی خواہش ہوگی۔چنانچہ والد صاحب نے اسی وقت اپنی ایک دودھ دینے والی بکری ذبیح کر دی۔پھر گوشت بھوننے کا حکم دیا اور مجھے حضور کی خدمت میں بھنا ہوا گوشت دے کر بھجوایا۔حضور نے بہت محبت سے دلی شکر یہ ادا کرتے ہوئے قبول کیا اور فرمایا " انصار کو اللہ تعالیٰ بہت جزا عطا فرمائے خاص طور پر عمر و بن حرام کے قبیلے کو۔‘‘ (ھیثمی ) 41