اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 218 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 218

اسوہ انسان کامل 218 رسول کریم کی رافت و شفقت اپنا سودا بیچ رہا ہے۔آپ نے پیچھے سے جا کر باہیں اس کی گردن میں ڈال دیں۔وہ آپ کو دیکھ نہ سکا۔کہنے لگا اے شخص! مجھے چھوڑ دو۔پھر جو اس نے مڑ کر دیکھا تو اسے پتہ چلا کہ حضور ہیں تو وہ خوشی سے اپنی پشت حضور کے جسم مبارک سے رگڑنے لگا۔حضور فرمانے لگے میرا یہ غلام کون خرید یگا وہ بولا اے اللہ کے رسول ! پھر تو آپ مجھے بہت ہی ناکارہ سودا پائیں گے۔نبی کریم نے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا لیکن اللہ کے نزدیک تو تم گھاٹے کا سودا نہیں ہو۔تمہاری بڑی قدر و قیمت ہے۔(احمد) 6 بدوؤں سے سلوک بی تو غرباء اور فقراء صحابہ کے ساتھ آنحضور کا شفقت و رافت کا تعلق تھا۔مدینہ کے اردگر درہنے والے اجڈ بدوؤں اور درشت رو بادیہ نشینوں سے بھی آپ ہمیشہ رافت کا سلوک فرماتے جن کے اخلاق و عادات کے بارہ میں قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔بادیہ نشین کفر اور منافقت میں سب سے زیادہ سخت ہیں اور زیادہ رجحان رکھتے ہیں کہ جو کچھ اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا اس کی حدود کونہ پہچانیں اور اللہ دائی علم رکھنے والا اور بہت حکمت والا ہے۔“(سورۃ التوبہ: 97) اکثر و بیشتر جنگلی بد و آکر عجیب و غریب سوال آپ کی مجلس میں کرتے ہیں اور آپ ہیں کہ نرمی سے جواب دیتے چلے جار ہے ہیں۔آپ گھصحابہ سے محو گفتگو ہیں۔ایک بدو آ کر مخل ہوتا ہے اور درمیان میں ٹوک کر سوال کرتا ہے کہ قیامت کب آئے گی؟ اب جسے علم دین کی سوجھ بوجھ ہی نہیں اسے انسان اسکا کیا جواب دے اور کیسے سمجھائے۔حضور اپنی بات جاری رکھتے ہیں اور اصحاب رسول چہ میگوئیاں کر رہے ہیں کہ شاید حضور نے اس کا سوال سنا ہی نہیں اس لئے جواباً خاموش ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ حضور نے اس کا سوال ہی پسند نہیں فرمایا اس لئے جواب نہیں دے رہے۔اپنی بات مکمل کرنے کے بعد حضور کو اس بد وسائل کا خیال آتا ہے پوچھتے ہیں قیامت کی بابت پوچھنے والا کہاں ہے؟ وہ عرض کرتا ہے اے خدا کے رسول ! میں حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا! جب امانت ضائع ہو جائے گی تو اس وقت قیامت کا انتظار کرنا۔وہبر و یہ جواب پا کر ایک اور سوال کر دیتا ہے کہ جناب ! امانت کے ضائع ہونے کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔آپ از راہ شفقت پھر اسے سمجھانے لگ جاتے ہیں کہ امانت کے ضائع ہونے کا یہ مطلب ہے کہ حکومت نا اہل لوگوں کے سپرد کر دی جائے تو سمجھنا کہ یہ قیامت کی علامت ہے۔( بخاری )7 ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے۔ایک بدو آیا اور آپ کا دامن پکڑ کر کہنے لگا میرا ایک چھوٹا سا کام ہے ایسانہ ہو کہ میں بھول جاؤں آپ میرے ساتھ مسجد سے باہر تشریف لا کر پہلے میرا کام کردیں۔آپ مسجد سے باہر تشریف لے گئے اور اس کا کام انجام دے کر تشریف لائے اور نماز پڑھائی۔(ابوداؤد )8 نبی کریم علی دینی مصروفیات کے باوجود باہر سے مدینہ میں آئے ہوئے بدوؤں کی تالیف قلبی کی ہر ممکن کوشش فرماتے تھے۔ایک دفعہ ایک اعرابی بیمار ہو گیا۔آپ اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔اُسے تسلی دلاتے ہوئے