اسوہء انسانِ کامل — Page 211
211 رسول کریم کی ہمدردی خلق اسوہ انسان کامل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غریب صحابی جلبیب کے رشتہ کا پیغام ایک انصاری لڑکی کے والد کو بھجوایا۔وہ کہنے لگے میں اس کی ماں سے مشورہ کروں گا۔انہوں نے جب بیوی سے مشورہ کیا تو وہ کہنے لگی کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم جلیبیب جیسے غریب آدمی کو رشتہ دے دیں حالانکہ اس سے پہلے ہم اس سے بہتر رشتے رڈ کر چکے ہیں۔لڑکی نے پردے میں یہ بات سن لی۔کہنے لگی کیا تم رسول اللہ کے حکم کو موڑو گے، اگر حضور اس رشتہ پر راضی ہیں تو میرا نکاح کر دو۔چنانچہ اس کے والد نے جا کر رسول اللہ سے عرض کیا کہ بچی راضی ہے اس لئے ہم بھی راضی ہیں۔یوں آپ نے جلبیب کی شادی کروادی۔حضرت جلبیب بعد میں ایک دینی مہم میں شہید ہو گئے۔( احمد ) 29 شادی پر تحفہ نبی کریم کبھی کسی سائل کو ر ڈ نہ فرماتے اور حسب توفیق و موقع جو میسر ہوتا عطا فرماتے۔حضرت ابوھریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں اپنی بیٹی کی شادی کر رہا ہوں اور میری خواہش ہے کہ آپ مجھے کچھ عطا فرمائیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سر دست تو میرے پاس کچھ نہیں البتہ کل ایک کشادہ منہ والی شیشی اور ایک درخت کی شاخ بھی لے آنا اور تمہارے ساتھ میری درمیان ملاقات کے وقت کی نشانی یہ ہوگی کہ جب میرے دروازے کا ایک کواڑ کھلا ہو اس وقت آ جاتا۔اگلے روز وہ شخص یہ دونوں چیزیں لے کر آیا۔نبی کریم اپنے بازؤں سے پسینہ جمع کر کے اس شیشی میں اکٹھا کرنے لگے یہاں تک کہ وہ شیشی بھر گئی۔پھر آپ نے فرمایا کہ یہ لے جاؤ اور اپنی بیٹی سے کہنا کہ جب خوشبو لگانا چاہے تو یہ شاخ شیشی میں ڈال کر اس سے خوشبو استعمال کر لے۔چنانچہ وہ گھرانہ جب یہ خوشبو استعمال کرتا تو اہل مدینہ اسے بہترین خوشبوقراردیتے۔یہاں تک کہ اس گھرانے کا نام ہی ” بہترین خوشبو والوں کا گھر پڑ گیا۔(حیثمی ) 30 عیادت مریض رسول کریم نے ایک دفعہ ایک حدیث قدسی بیان فرمائی جس سے خلق خدا سے ہمدردی کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔فرمایا اللہ قیامت کے دن فرمائے گا اے ابن آدم! میں بیمار تھا تو نے میری عیادت نہ کی۔وہ کہے گا اے میرے رب میں کیسے تیری عیادت کرتا تو تو تمام جہانوں کا رب ہے۔اللہ فرمائے گا کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اور تو نے اس کی عیادت نہ کی۔کیا تجھے خبر نہیں کہ اگر تم اس کی عیادت کرتے تو مجھے اس کے پاس موجود پاتے۔اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا مگر تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔وہ کہے گا اے میرے رب میں کیسے آپ کو کھانا کھلاتا اور تُو تورب العالمین ہے اللہ فرمائے گا کیا تجھے پتہ نہیں کہ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اللہ کو وہاں موجود پاتا۔اے ابن آدم میں نے تجھے سے پانی مانگا تو نے مجھے پانی نہ دیا۔بندہ کہے گا میں تجھے کیسے پانی پلا تا حلانکہ تو رب العالمین ہے۔اللہ فرمائے گا تجھ سے میرے ایک بندے نے پانی مانگا تھا تو نے اسے پانی نہ پلایا۔اگر تو اسے پانی پلاتا تو اللہ کو وہاں موجود پاتا۔(مسلم ) 31