اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 210 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 210

210 اسوہ انسان کامل رسول کریم کی ہمدردی خلق ربیعہ اتم شادی کیوں نہیں کرتے ؟ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول خدا کی قسم میرا شادی کا کوئی ارادہ نہیں۔ایک تو مجھے بیوی کے نان و نفقہ کی توفیق نہیں اور دوسرے میں یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی اور مصروفیت مجھے آپ کی خدمت سے محروم کر دے۔اس وقت آپ خاموش ہو گئے۔میں آپ کی خدمت کی توفیق پا تا رہا۔کچھ عرصہ بعد پھر فرمانے لگے ربیعہ ! شادی کیوں نہیں کر لیتے۔میں نے وہی پہلے والا جواب دیا مگر اس وقت میں نے اپنے دل میں سوچا کہ حضور ﷺ تو دنیا اور آخرت کے مصالح مجھ سے بہتر جانتے ہیں اس لئے اب اگر آئندہ مجھ سے شادی کے بارہ میں پوچھا تو میں کہ دوں گا کہ حضور کا حکم سر آنکھوں پر۔اگلی مرتبہ جب حضور نے شادی کے بارہ میں تحریک فرمائی تو میں نے کہ دیا کہ جیسے حضور کا حکم ہو۔آپ نے فرمایا کہ تم انصار کے فلاں قبیلہ کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ رسول اللہ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ اپنی فلاں لڑکی کی مجھ سے شادی کر دیں۔میں نے ایسے ہی کیا۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ اور آپ کے نمائندے کو خوش آمدید! خدا کی قسم رسول خدا کا نمائندہ اپنی حاجت پوری کئے بغیر واپس نہیں لوٹے گا۔انہوں نے میری شادی کر دی اور بڑی محبت سے پیش آئے۔کوئی تصدیق وغیرہ طلب نہ کی کہ واقعی تمہیں رسول اللہ نے ہی بھیجا ہے۔میں رسول کریم کی خدمت میں واپس لوٹا تو غمزدہ سا تھا۔آپ نے فرمایا ربیعہ تمہیں کیا ہوا؟ عرض کیا یا رسول اللہ میں ایک معزز قوم کے پاس گیا۔انہوں نے میری شادی کی۔عزت افزائی اور محبت کا سلوک کیا اور مجھ سے کوئی ثبوت تک نہ مانگا۔ادھر میرا حال یہ ہے کہ میرے پاس تو مہر ادا کرنے کو بھی پیسے نہیں۔آنحضور نے بریدہ اسلم کو حکم دیا کہ حق مہر کے لئے گٹھلی برابر سونا جمع کرو۔انہوں نے تعمیل ارشاد کی۔آنحضور نے فرمایا اب ان لوگوں کے پاس جاؤ اور یہ مہر ادا کر دو۔میں نے ایسا ہی کیا۔انہوں نے بہت خوشی سے اسے قبول کیا اور کہا کہ یہ رقم بہت کافی ہے۔میں پھر رسول اللہ کی خدمت میں پریشان ہو کر واپس لوٹا۔آپ نے فرمایا ربیعہ اب کیوں پریشان ہو؟ میں نے عرض کیا کہ اس خاندان جیسے معزز لوگ میں نے نہیں دیکھے۔میں نے انہیں جو مہر دیا انہوں نے خوشی سے قبول کیا اور مجھ سے احسان کا سلوک کیا مگر میرے پاس اب ولیمے کی توفیق نہیں۔آپ نے پھر بریدہ سے فرمایا اس کے لئے بکری کا انتظام کرو۔انہوں نے میرے لئے ایک بڑے صحت مند مینڈھے کا انتظام کر دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت عائشہ کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ غلے کا ایک ٹوکرا دے دیں۔میں نے حسب ارشاد جا کر عرض کر دیا۔حضرت عائشہ نے فرمایا یہ ٹوکرا ہے جس میں ( نوصاع تقریباً 30 کلو ) جو ہیں۔خدا کی قسم ! ہمارے گھر میں فی الوقت اس کے علاوہ اور کوئی غلہ نہیں، بس تم لے جاؤ۔میں یہ لے کر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عائشہ نے جو کہا تھا وہ بھی عرض کر دیا۔آپ نے فرمایا اب یہ غلہ اپنے سسرال لے جاؤ اور انہیں کہو کہ کل اس سے روٹی وغیرہ بنائیں۔میں غلہ اور مینڈھا لیکر گیا اور میرے ساتھ اسلم قبیلے کے کچھ لوگ بھی تھے۔ہم نے انہیں کھانا تیار کرنے کے لئے کہا۔وہ کہنے لگے کہ روٹی ہم تیار کروا دیں گے، جانور آپ لوگ ذبح کر لیں۔چنانچہ ہم نے گوشت تیار کر کے پکایا اور اگلی صبح میں نے گوشت روٹی سے ولیمہ کیا اور رسول اللہ کو بھی دعوت دی۔اس کے کچھ عرصہ بعد آنحضور نے مجھے کچھ زمین عطا فرما دی۔کچھ زمین حضرت ابوبکر صدیق نے دے دی پھر تو فراخی ہوگئی۔(احمد) 28