اسوہء انسانِ کامل — Page 209
اسوہ انسان کامل 209 رسول کریم کی ہمدردی خلق ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔اس نے کہا یہ سب میری استطاعت سے باہر ہے۔دریں اثناء کھجوروں کی ایک ٹوکری رسول اللہ کی خدمت میں پیش کی گئی۔آپ نے اس مفلوک الحال سائل کو بلوایا اور وہ ٹوکری اس کے حوالے کر کے فرمایا یہ صدقہ کر دو۔وہ بولامد ینہ کی بستی میں ہم سے غریب اور کون ہے جس پر یہ صدقہ کروں۔رسول کریم اس کے اس جواب پر خوب مسکرائے اور فرمایا اچھا پھر یہ کھجور میں خود ہی لے لو۔( بخاری ) 23 منذر بن جریر اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے پاس تھے ، دن کا پہلا پہر تھا۔حضور کی خدمت میں ایک غریب قوم کے کچھ لوگ آئے جو ننگے پاؤں اور ننگے بدن تھے۔انہوں نے تلوار میں سونتی ہوئی تھیں اور ان کا تعلق مضر قبیلہ سے تھا۔ان کی بھوک اور افلاس کی حالت دیکھ کر رسول اللہ کا چہرہ متغیر ہو گیا۔حضور گھر تشریف لے گئے پھر باہر آکر بلال سے کہا کہ ظہر کی اذان دو۔آپ نے نماز کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا اور ان کیلئے صدقہ کی تحریک فرمائی۔لوگوں نے دینار، درھم ، کپڑے، جو اور کھجور وغیرہ صدقہ کیا یہاں تک کہ غلے کے دوڈ ھیر جمع ہو گئے۔میں نے دیکھا رسول اللہ کا چہرہ خوشی سے ایسے دمک اُٹھا جیسے سونے کی ڈتی ہو۔(احمد )24 نبی کریم ﷺ غرباء کی عزت نفس کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ ہر کمزور اور ضعیف آدمی جنتی ہے۔(بخاری 25 ) آپ غرباء کو کھانے وغیرہ کی دعوتوں میں بلانے کی تحریک کرتے اور فرماتے کہ وہ دعوت بہت بری ہے جس میں صرف امراء کو بلایا جائے اور غرباء کو شامل نہ کیا جائے۔“ (بخاری)26 خدمت خلق کے مواقع کی تلاش رسول کریم اللہ مخلوق خدا کی خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلام کے پاس سے گزرے جو ایک بکری کی کھال اتار رہا تھا۔حضور نے اسے فرمایا تم ایک طرف ہو جاؤ میں تمہیں کھال اُتارنے کا طریقہ بتا تا ہوں۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا باز جلد اور گوشت کے درمیان داخل کیا اور اسکو دبایا یہاں تک کہ باز و کندھے تک کھال کے اندر چلا گیا۔پھر آپ نے اس غلام سے فرمایا کہ ”اے بچے! کھال اس طرح اتارتے ہیں۔تم بھی ایسے ہی کرو۔“ پھر آپ تشریف لے گئے اور لوگوں کو جا کر نماز پڑھائی اور دوبارہ وضوء نہیں کیا۔( ماجہ ) 27 غرباء کے رشتہ ناطہ میں تعاون آنحضور یہ ہر طبقہ کے لوگوں کی ضرورت پر نظر ر کھتے اور حاجت روائی کی کوشش فرماتے۔غرباء کی شادی وغیرہ کا بند و بست ذاتی دلچسپی سے کروادیتے تھے۔حضرت ربیعہ الاسلمی کہتے ہیں میں رسول اللہ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ایک روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ