اسوہء انسانِ کامل — Page 204
اسوہ انسان کامل 204 رسول کریم کی ہمدردی خلق رسول کریم ع کی ہمدردی خلق قرآن شریف میں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام نبیوں کا سردار اور آپ کی امت کو بہترین امت قرار دیا گیا ہے۔اس بلند مقام اور منصب کا سب سے بڑا تقاضا خدمت ہے۔چنانچہ فرمایا كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ للنَّاسِ ( سورة آل عمران: 111) کہ اے مسلمانو! تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدہ کیلئے پیدا کی گئی ہے۔گویا خدمت خلق کے نتیجہ میں مسلمان واقعی طور پر اپنا بہترین ہونا ثابت کر سکتے ہیں تبھی تو رسول کریم نے فرمایا کہ سید الْقَوْمِ خَادِمُهُمُ کہ قوم کا سرداران کا خادم ہوتا ہے۔اور عمر بھر اس اصول کی ایسی لاج رکھی کہ بنی نوع کی خدمت کر کے کل عالم کا سردار ہونا ثابت کر دکھایا۔آنحضور نے فرمایا ہے کہ دین تو خیر خواہی کا نام ہے۔آپ سے پوچھا گیا رکس چیز کی خیر خواہی؟ آپ نے فرمایا اللہ، اس کی کتاب ، اس کے رسول ، مسلمان ائمہ اور ان کے عوام الناس کی خیر خواہی۔(مسلم 1) آپ نے اپنی جامع خوبصورت تعلیم کے ذریعہ بنی نوع انسان کی سب سے بڑی خدمت یہ کی کہ ہر انسان کی جان، مال اور عزت کی حرمت قائم فرما دی۔( بخاری )2 آپ فرماتے تھے مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ اورسلامت رہیں۔( بخاری (3) ایک دوسری روایت میں ہے مومن وہ ہے جس سے دوسرے تمام انسان امن میں رہیں۔( احمد ) 4 حضرت عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں ایک دفعہ ایک شخص نے نبی کریم کی خدمت میں عرض کیا کہ کون لوگ اللہ کو سب سے پیارے ہیں؟ اور کون سے اعمال اللہ کو زیادہ محبوب ہیں؟ رسول کریم نے فرمایا اللہ کو سب سے پیارے وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں اور اللہ کو سب سے پسندیدہ عمل یہ ہے کہ انسان اپنے مسلمان بھائی کو خوش کرے یا اس کی تکلیف دور کرے یا اس کا قرض ادا کر دے یا اس کی بھوک دور کرے۔پھر فرمایا ”اگر میں خود ایک مسلمان بھائی کے ساتھ مل کر اس کی ضرورت پوری کروں تو یہ بات مجھے زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس بات کے کہ میں مدینہ کی اس مسجد میں ایک ماہ تک اعتکاف کروں اور جو شخص اپنے غصہ کو روکتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں کی پردہ پوشی کرتا ہے اور جو شخص اپنے غصہ کو دبا لیتا ہے حالانکہ اگر وہ چاہتا تو وہ اپنی من مانی کر سکتا تھا۔اللہ اس شخص کا دل قیامت کے دن اُمید سے بھر دے گا اور جو شخص اپنے بھائی کے ساتھ ضرورت پوری کرنے کے لئے نکل کھڑا ہوتا ہے اور اس کا کام کر کے دم لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُسے ثابت قدم رکھے گا۔جس دن کہ تمام قدم ڈگمگا رہے