اسوہء انسانِ کامل — Page 202
اسوہ انسان کامل 202 صلہ رحمی میں رسول کریم کا شاندار نمونہ کی معافی کا اعلان کیا بلکہ اس کے گھر میں داخل ہو جانے والوں کیلئے بھی معافی کا اعلان عام کروا دیا۔مکہ کے دوسرے سردار عکرمہ بن ابی جہل کی بیوی ام حکیم مسلمان ہوگئی۔خود عکرمہ تو بھاگ گیا لیکن اس کی بیوی رسول اللہ سے پروانہ امان لے کر عکرمہ کو واپس لائی۔عکرمہ نے حضور کے دربار میں حاضر ہو کر تصدیق چاہی اور جب رسول اللہ نے فرمایا کہ ہاں میں نے تمہیں اپنے دین پر رہتے ہوئے امان دی ہے تو عکرمہ بے اختیار کہ اٹھا کہ یارسول اللہ ! آپ کتنے کریم اور کتنے صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔(الحلبیہ ( 21 اہل عرب بھی رسول اللہ کی وفا اور حسن معاشرت کے قائل تھے۔جنگ حنین میں ہوا زن قبیلہ کے لوگ قید ہوئے تو ان کا وفد حضور کی خدمت میں قیدی چھڑوانے کے لئے حاضر ہوا۔ان کے نمائندے نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے بنو ہوازن میں بچپن میں رضاعت کا زمانہ گزارا ہے۔ان قیدیوں میں کئی آپ کی رضاعی پھوپھیاں خالائیں اور وہ بیبیاں ہیں جنہوں نے آپ کو کھلایا اور آپ کی کفالت کی ہے۔آپ تو سب سے بہترین کفالت کرنے والے ہیں۔رسول کریم نے ان سے کمال وفا اور احسان کا سلوک کرتے ہوئے فرمایا میں تمہارے تمام وہ قیدی آزاد کرتا ہوں جو میرے یا بنی عبدالمطلب کے حصے میں آئے ہیں۔(ابن ہشام 22 اس کے بعد آپ نے صحابہ سے مشورہ اور رضامندی کے بعد ہوازن کے باقی سب قیدی بھی آزاد کر دئے۔یہ تھا رسول کریم کا صلہ رحمی میں شاندار نمونہ جس کے حق میں اپنوں اور پرایوں نے بھی گواہی دی۔۔۔۔۔۔۔۔