اسوہء انسانِ کامل — Page 185
اسوۃ انسان کامل 185 آنحضرت کا حسن معاملہ اور بہترین اسلوب تجارت ہوئے فرمایا کوئی ہے جو میرا یہ غلام خریدے؟ اب بے چارے جھینپ کر کہنے لگے یا رسول اللہ یہ گھاٹے کا سودا کون کرے گا ؟ فرمایا نہیں اللہ کے ہاں تمہاری بہت قدر ہے۔(اصابہ ) 11 یہ ایک محنت کش پر آپ کا پیار تھا۔جو اپنے ہاتھ کی کمائی سے پیٹ پالتا تھا۔پاکیزہ تجارت کے آداب ہمارے نبی حضرت محمد مصطفے ﷺ نے جوان ہو کر اپنے لئے قومی پیشہ تجارت اختیار کرنا پسند فرمایا۔آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کو تحریک فرمائی کہ مکہ کی مالدار خاتون خدیجہ بنت خویلد کا تجارتی قافلہ شام جارہا ہے، اگر آپ بھی اس قافلہ میں جانے کے لئے تیار ہو جاؤ تو وہ بخوشی اپنا مال تجارت آپ کے حوالے کرنے پر راضی ہوں گے۔ادھر حضرت خدیجہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے آپ کو پیغام بھجوایا کہ آپ کی قوم کے لوگوں کے مقابلہ پر مال تجارت لے جانے کا دگنا معاوضہ آپ کو دیا جائے گا۔چنانچہ آپ حضرت خدیجہ کے غلام میسرہ کے ساتھ اس تجارتی قافلہ میں بصری گئے اور اپنا مال تجارت فروخت کر کے پہلے سے کئی گنا نفع کمایا۔(ابن سعد) 12 اور اپنی پاکیزہ فطرت کے مطابق سچائی، امانت دیانت اور ایفائے عہد کے بابرکت اصولوں پر عمل کر کے اس میدان میں اپنالو ہا منوایا۔بعد میں جب آپ مقام نبوت پر سرفراز ہوئے تو الہی تعلیم سے منور ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کردہ پاک صفات اور اخلاق وکردار کے ساتھ آپ نے تجارت کے اسلوب و آداب قائم فرمائے اور ان زریں قرآنی اصولوں پر عمل کر کے دنیا کو اس کا بہترین نمونہ دیا۔آپ نے اپنے ماننے والوں کو بھی تجارت کے یہ آداب سکھائے اور صداقت و دیانت پر مبنی پاکیزہ اسلامی تجارت کی بنیاد رکھی۔اسلام سے قبل خرید و فروخت کرنے والے اپنے لئے سماسرہ کا لفظ استعمال کرتے تھے جس کے معنی دلال (ایجنٹ ) کے ہوتے ہیں۔رسول کریم نے سودا کرنے والوں کو تاجر کے نام سے موسوم کر کے اس پیشہ کو ایک تقدس عطا کیا۔کیونکہ تجارت کے معنی جائز منافع کی خاطر خرید وفروخت کے ہیں۔آپ نے اپنے صحابہ کو نصیحت فرمائی کہ سودا کرتے وقت کسی جھوٹ یا لغو بات کا بھی امکان ہوتا ہے اور انسان قسم بھی کھا بیٹھتا ہے اس لئے اس موقع پر کچھ صدقہ دے دینا چاہئے۔تا کہ ایسی باتوں یا ان کے ضرر سے محفوظ رہیں۔(ابوداؤد )13 صدقہ کے ساتھ آپ نے کامیاب تجارت کے لئے دعا کی طرف بھی توجہ دلائی۔آپ خود بازار تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے :۔”اے اللہ ! میں تجھ سے اس بازار اور جو اس کے اندر ہے اس کی بھلائی کا طلب گار ہوں اور میں اس بازار اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔اے اللہ ! میں اس بات سے بھی تیری پناہ میں آتا ہوں کہ بازار میں کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا گھاٹے والا سودا کروں“۔(طبرانی)14 آنحضرت علی نے اچھے تاجروں کا دینی وروحانی مقام بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔