اسوہء انسانِ کامل — Page 184
اسوۃ انسان کامل 184 آنحضرت کا حسن معاملہ اور بہترین اسلوب تجارت دد یعنی اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی اور خیر عطا فرما جبکہ صرف دنیا کے طالبوں کے حق میں فرمایا کہ ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں“۔(البقرہ:۲۰۱،۲۰۲) جہاں تک اس دنیائے دُوں کا تعلق ہے اس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے آنحضرت نے فرمایا کہ درہم و دینار کا غلام ہلاک ہو گیا۔نیز فرمایا کہ انسان کی حرص اور طلب کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا اگر اسے سونے کی دو وادیاں بھی مل جائیں تو وہ تیسری وادی کا خواہاں ہوتا ہے۔اور اس کے پیٹ کو سوائے قبر کی مٹی کے کوئی چیز بھر نہیں سکتی۔( بخاری )7 حضرت نبی کریم اس سلسلہ میں اپنے صحابہ کو گاہے بگاہے نصیحت فرماتے رہتے تھے۔ایک دفعہ آپ بازار تشریف لے گئے ،لوگ آپ کے دائیں بائیں تھے۔آپ ایک چھوٹے کانوں والے مردہ بکر وٹے کے پاس سے گزرے، آپ نے اس کا کان پکڑ کر صحابہ سے فرمایا کہ تم میں کوئی اسے ایک درہم میں لینے کو تیار ہے؟ انہوں نے عرض کیا ہم اسے کیا کریں گے؟ ہمیں ہرگز یہ کسی چیز کے عوض لینا بھی گوارہ نہیں۔آپ نے پھر فرمایا کہ کیا تم پسند کرو گے کہ تم اسے لے لو؟ انہوں نے پھر جواب دیا کہ اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو چھوٹے کانوں کا عیب اس میں تھا۔اب مردہ ہونے کی حالت میں بھلا اس کی کیا حیثیت ہوگی ؟ اس پر آپ نے فرمایا خدا کی قسم او نیا للہ تعالیٰ کے نزدیک اس مردہ بکر وٹے سے بھی زیادہ ذلیل اور حقیر ہے“۔(مسلم) 8 آپ کی غرض یہ تھی کہ دنیا کمان منع نہیں مگر اس کے لئے شرط یہ ہے کہ ہمیشہ مقصد اللہ تعالیٰ کی ذات ہو۔اگر ایسا ہوتو پھر یہی تجارت اللہ تعالیٰ کا فضل بن جاتی ہے جس کے لئے کوشش اور محنت کرنے کا حکم ہے۔(الجمعہ :۱۱ البقرہ : ۱۹۹ ) یہی وجہ ہے کہ رسول کریم محنت اور ہاتھ کی کمائی پسند کرتے اور فرماتے تھے کہ ہاتھ سے کمانے والا اللہ کا محبوب ہوتا ہے“۔حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کوئی بھی پیشہ اختیار کرنے والے مومن سے محبت کرتا ہے۔ایک دفعہ آپ سے پوچھا گیا کہ بہترین کمائی کونسی ہے؟ آپ نے فرمایا دیانت دارانہ ہاتھ کی کمائی۔اسی طرح آپ نے فرمایا کبھی کسی نے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کھانا نہیں کھایا۔اور اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھانا کھاتے تھے۔(بیشمی ) 9 رسول اللہ ہاتھ سے کام کرنے والوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ایک صحابی حضرت سعد بن معاذ " انصاری ایک دفعہ رسول اللہ سے ملے آپ نے پوچھا کہ تمہارے ہاتھوں کو کیا ہوا انہوں نے عرض کیا کہ محنت مزدوری اور کشتی چلا کر بچوں کا پیٹ پالتا ہوں۔آنحضرت نے ان کے ہاتھ چوم لئے اور فرمایا ان ہاتھوں کو آگ نہیں چھوئے گی۔(الاصابہ ) 10 ایک دیہاتی حضرت زاہر سادہ شکل کے تھے۔وہ دیہات سے رسول اللہ کے لئے وہاں کی سوغاتیں لایا کرتے اور آپ ان کو کوئی تحفہ دے دیا کرتے یوں ان سے ایک تعلق تھا۔ایک دفعہ ان کو بازار میں اپنا سامان بیچتے ہوئے دیکھا تو ان پر ایسا پیار آیا کہ پیچھے سے جاکر ان کی آنکھیں موند لیں پہلے تو وہ پوچھتے رہے کہ کون ہے پھر یہ محسوس کر کے کہ میرے آقا ع کے سوا کون ہو گا۔وہ محبت سے اپنا جسم آپ کے ساتھ رگڑنے لگے۔آنحضرت نے اظہار محبت کرتے