اسوہء انسانِ کامل — Page 183
اسوۃ انسان کامل 183 آنحضرت کا حسن معاملہ اور بہترین اسلوب تجارت اسلام نے سود کی بجائے معاشرہ کی آسودگی کے لئے قرض حسنہ اور طوعی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے پر زور دیا ہے۔جہاں تک تجارت کے ذریعہ حصول منافع کا تعلق ہے اسلام میں اس کی کوئی خاص حد مقرر نہیں کی گئی۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ اصولی نصیحت فرمائی ہے کہ تم اپنے مال باہم جھوٹ اور ناجائز طریقوں سے مت کھاؤ ، البتہ باہمی رضامندی سے تجارت اور کاروبار جائز ہے۔(النساء : ۳۱) ایک دفعہ صحابہ نے آنحضور ﷺ کی خدمت میں مدینہ میں مہنگائی بڑھ جانے پر عرض کیا کہ اشیاء کے نرخ مقرر فرما دیں۔آپ نے فرمایا میں دعا کروں گا۔قیمتوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔وہی تنگی اور کشائش پیدا کرتا اور وہی رازق ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں میری ملاقات ہو کہ مجھ سے کسی کا کوئی مطالبہ اور شکایت کسی جان کے ) خون یا مال کے بارہ میں نہ ہو“۔(ابوداؤد ) 5 اس بارہ میں آپ نے اپنے مانے والوں کو تنبیہ فرمائی کہ جس شخص نے مسلمانوں کے بازار کی قیمتوں کو چڑھانے کی کوئی کاروائی کی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے یقیناً بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالے گا“۔(مسند احمد )6 دین کو دنیا پر مقدم رکھنا بانی اسلام نے اپنے ماننے والوں کے لئے دوسرا اہم اصول تجارت یہ بیان فرمایا کہ دنیوی کاروبار اور تجارتوں میں پڑ کر دین کو فراموش نہ کر بیٹھیں بلکہ اپنے معاملات میں ہمیشہ اپنے خالق و مالک خدا کی مرضی کو مقدم رکھیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اے مومنو! جب جمعہ کی نماز کے لئے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔پھر جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھیں تو اس کی طرف دوڑ کر جاتے ہیں اور تجھے کھڑا چھوڑ جاتے ہیں تو کہہ دے جو اللہ کے پاس ہے وہ کھیل اور تجارت سے زیادہ بہتر ہے اور وہی سب سے بہترین رزق عطا کرنے والا ہے“۔(الجمعہ: ۱۰ تا ۱۲) اس تعلیم کی روشنی میں قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے ایسے نمونے قائم کر کے دکھائے کہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن شریف میں اصحاب رسول کی تعریف کی اور فرمایا کہ وہ ایسے مردان حق ہیں کہ تجارتیں اور خرید و فروخت انہیں یاد الہی اور نماز و زکوۃ سے غافل نہیں کرتیں“۔(النور : ۳۸) دراصل دنیوی اموال کا اگر درست مصرف نہ ہو تو وہ انسان کے لئے سخت آزمائش کا موجب بن سکتے ہیں۔اسلام نے دین ود نیا میں ایک نہایت خوبصورت توازن قائم فرمایا ہے رسول اللہ یہ دعا بہت کثرت سے کیا کرتے تھے کہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔