اسوہء انسانِ کامل — Page 167
اسوہ انسان کامل 167 راقت شعاری میں رسول اللہ کا بلند مقام تمہارے حوالے کرونگا۔چاہو تو اسے قتل کرو اور چاہو تو زندہ رکھو۔انہوں نے کہا بالکل یہ انصاف کی بات ہے۔پھر جا کر دیکھا تو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، ہوائے لفظ اللہ کے سارے معاہدہ کو دیمک چاٹ چکی تھی۔چنانچہ قریش یہ معاہدہ ختم کرنے پر مجبور ہو گئے۔( ابن جوزی)5 خزیمہ بن حکیم سلمی کی گواہی خزیمہ حضرت خدیجہ کے سسرالی رشتہ داروں میں سے تھے۔دعویٰ نبوت سے قبل جب رسول کریم تجارت کے لئے حضرت خدیجہ کا مال تجارت لے کر شام گئے۔خزیمہ بھی حضور کے ساتھ تھے۔حضور کے پاکیزہ اخلاق مشاہدہ کر کے انہوں نے بے اختیار یہ گواہی دی کہ ”اے محمد میں آپ کے اندر عظیم الشان خصائل اور خوبیاں دیکھتا ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہی نبی ہیں جس نے تہامہ سے ظاہر ہونا تھا اور میں آپ پر ابھی ایمان لاتا ہوں۔انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ جب مجھے آپ کے دعوی کی خبر ملی میں ضرور آپ کی خدمت میں حاضر ہونگا۔مگر دعویٰ کے بعد جلد اس وعدہ کی تکمیل نہ ہوسکی۔فتح مکہ کے بعد آکر اسلام قبول کیا تو رسول اللہ نے فرمایا ” پہلے مہاجر کو خوش آمدید۔( ابن حجر ) 6 دوست کی گواہی حضرت ابو بکر رسول اللہ کے بچپن کے دوست تھے۔انہوں نے جب آپ کے دعوئی کے بارہ میں سنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار کے باوجود کوئی دلیل نہیں چاہتی کیونکہ زندگی بھر کا مشاہدہ یہی تھا کہ آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔( بیہقی )7 پس رسول اللہ کا کردار بھی آپ کی سچائی کا گواہ تھا اور آپ کی پیشانی پر بھی سچائی کی روشنی تھی جسے حضرت ابوبکر نے پہچان لیا۔اولین معاند ابو جہل کی شہادت حق یہ ہے کہ بچوں کی گواہی دینے پر اپنے اور بیگانے تو کیا دشمن بھی مجبور ہو جاتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ابو جہل سے بڑھ کر کون تھا؟ مگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بر ملا کہا کرتا تھا کہ ہم تجھے جھوٹا نہیں کہتے بلکہ اس تعلیم کی تکذیب کرتے ہیں جو تو لے کر آیا ہے۔( ترمذی )8 دشمن اسلام ابوسفیان کی گواہی رسول اللہ کا دوسرا بڑا دشمن ابو سفیان تھا۔ہر قل شاہ روم نے اپنے دربار میں جب اس سے یہ سوال کیا کہ کیا تم نے اس مدعی نبوت ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اس سے پہلے کوئی جھوٹ کا الزام لگایا؟ ابوسفیان نے جواب دیا کہ نہیں