اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 160 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 160

160 مخبر صادق کے رؤیا وکشوف اور پیشگوئیاں اسوہ انسان کامل اس پیشگوئی میں جزیرہ قبرص کے بحری سفر کی طرف اشارہ تھا۔حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں حضرت معاویہؓ کو جب وہ شام کے گورنر تھے پہلے عظیم اسلامی بحری بیڑے کی تیاری کی توفیق ملی۔اس سے قبل مسلمانوں کو کوئی کشتی تک میسر نہ تھی۔حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں ہی حضرت معاویہ نے اسلامی فوجوں کی بحری کمان سنبھالتے ہوئے جزیرہ قبرص کی طرف بحری سفر اختیار کیا جو اسلامی تاریخ میں پہلا بحری جہاد تھا۔جس کے نتیجہ میں قبرص فتح ہوا اور بعد میں ہونے والی بحری فتوحات کی بنیادیں رکھی گئیں۔یوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کی وہ بات پوری ہوئی کہ دین اسلام غالب آئے گا یہاں تک کہ سمندر پار کی دنیاؤں میں بھی اس کا پیغام پہنچے گا اور مسلمانوں کے گھڑ سوار دستے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے سمندروں کو بھی چیر جائیں گے۔( ابن حجر ) 13 یہ پیش گوئی اس شان کے ساتھ جلوہ گر ہوئی کہ اس زمانہ کی زبر دست ایرانی اور رومی بحری قوتوں کے مقابل پر حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں مسلمانوں نے اپنی بحری قوت کا لوہا منوایا۔عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کی سرکردگی میں اسلامی بحری بیٹرے نے بحیرہ روم کے پانیوں میں اپنی دھاک بٹھا کر اسلامی حکومت کی عظمت کو چار چاند لگا دیئے۔چنانچہ فتح قبرص کے بعد کی اسلامی مہمات میں جہاں مسلمان ایک طرف بحیرہ اسود واحمر کے بھی اس پار پہنچے اور بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑائے تو دوسری طرف مسلمان فاتحین نے بحیرہ روم کو عبور کر کے جزیرہ روس صقلیہ اور قسطنطنیہ کو فتح کیا۔تیسری طرف طارق بن زیاد فاتح سپین نے بحیرہ روم کو چیرتے ہوئے بحر اوقیانوس کے کنارے جبرالٹر پر پہنچ کر ہر چہ بادا باد کہہ کر اپنے سفینے جلا دئیے تو چوتھی طرف محمد بن قاسم نے بحیرہ عرب اور بحر ہند کے سینے چیر ڈالے اور یوں مسلمانوں نے جریدہ عالم پر بحری دنیا میں کیا بلحاظ سمندری علوم میں ترقی اور کیا بلحاظ صنعت اور کیا بلحاظ جہاز رانی ایسے ان مٹ نقوش ثبت کئے جو رہتی دنیا تک یادر ہیں گے۔نئی بندرگا ہیں تعمیر ہوئیں، جہاز سازی کے کارخانے بنے بحری راستوں کی نشان دہی اور سمندروں کی پیمائش کے اصول وضع ہوئے اور مسلمان جو پانیوں سے ڈرتے تھے سمندروں پر حکومت کرنے لگے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے رویا وکشوف کمال شان کے ساتھ پورے ہوئے۔-3- تعبیر طلب رؤیا کا کسی اور رنگ میں پورا ہونا رؤیا اور کشوف کی تیسری صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ رویا کے وقت کی گئی تعبیر کے مطابق من وعن ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ الی مشیت و تقدیر کے مطابق کسی اور بہتر رنگ میں ظاہر ہوتی ہیں جیسے واقعہ صلح حدیبیہ۔مدنی دور میں جب مسلمان اہل مکہ سے حالت جنگ میں تھے اور ان کے حج وعمرہ پر پابندی تھی۔اس وقت رسول اللہ نے رویا میں اپنے آپ کو صحابہ کے ساتھ امن و امان سے طواف کرتے دیکھا اور ظاہری تعبیر پر عمل کرتے ہوئے چودہ سو صحابہ کی جماعت ہمراہ لے کر عمرہ کرنے تشریف بھی لے گئے۔مگر گہری مخفی الہی حکمتوں اور منشاء الہی کے تابع آپ اس سال عمرہ نہ کر سکے اور معاہدہ صلح حدیبیہ کے مطابق اگلے سال عمرہ کیا۔لیکن اس معاہدہ حدیبیہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خیبر کی فتح بھی عطا فرمائی اور مکہ بھی اسی معاہدہ کی برکت سے فتح ہوا۔اب اگر یہ تعبیر ظاہری رنگ میں