اسوہء انسانِ کامل — Page 159
اسوہ انسان کامل 159 مخبر صادق کے رؤیا وکشوف اور پیشگوئیاں سراقہ کی درخواست پر رسول کریم نے اسے ایک تحریر امان لکھوا کر دی اور جب وہ واپس جانے لگا تو آپ نے فرمایا اے وقت ہوگا گے؟سہ اے سراقہ ! اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب کسری کے کنگن تجھے پہنائے جائیں گے؟ سراقہ نے حیرانی سے کہا کسری بن ہرمز ( شہنشاہ ایران ) ؟ آپ نے فرمایا ہاں کسری بن ہرمز کے کنگن۔“ اپنے جانی دشمنوں سے جان بچا کر ہجرت کرنے والے بظاہر ایک کمزور انسان کی اس پیشگوئی کی شان اور عظمت پر غور تو کریں جس میں سراقہ کو کسری کے کنگن پہنائے جانے سے کہیں بڑھ کر عظیم الشان پیشگوئی یہ تھی کہ ایران فتح ہوگا اور کسری کے خزانے مسلمانوں کے قبضہ میں آئیں گے۔پھر نا مساعد حالات میں کی گئی یہ پیشگوئی کس شان سے پوری ہوئی۔سراقہ نے فتح مکہ کے بعد بعرانہ میں اسلام قبول کیا۔حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں کسری کے کنگن اور تاج وغیرہ حضرت عمر کے دربار میں پیش ہوئے۔حضرت عمرؓ نے سراقہ کو بلایا اور فرمایا ” ہاتھ آگے کرو“۔پھر آپ نے اُسے سونے کے کنگن پہنا دیئے اور فرمایا اے سراقہ ! کہو کہ تمام تعریفیں اس خدا کی ہیں جس نے ان کنگنوں کو کسری کے ہاتھ سے چھین کر سراقہ کے ہاتھوں میں پہنا دیا۔وہ کسریٰ جو یہ دعویٰ کرتا تھا کہ میں لوگوں کا رب ہوں۔(الحلبیہ )11 اسلامی بحری فتوحات کی پیشگوئی ایک اور عظیم الشان کشف کا تعلق اسلامی بحری جنگوں سے ہے۔مدنی زندگی کے اس دور میں جب بری سفروں اور جنگوں کے پورے سامان بھی مسلمانوں کو میسر نہیں تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کی بحری جنگوں اور فتوحات کی خبر دی گئی۔حضرت ام حرام بنت ملحان بیان کرتی ہیں کہ حضور تہمارے گھر محو استراحت تھے کہ عالم خواب سے اچانک مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے۔میں نے سبب پوچھا تو فرمایا کہ:۔” میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اس سمندر میں اس شان سے سفر کریں گے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوتے ہیں۔“ ام حرام کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے بنادے۔چنانچہ رسول کریم نے یہ دعا کی کہ اے اللہ اسے بھی ان میں شامل کر دے۔پھر آپ کو اونگھ آگئی اور آنکھ کھلی تو آپ مسکرارہے تھے۔میں نے وجہ پوچھی تو آپ نے پہلے کی طرح امت کے ایک اور گروہ کا ذکر کیا جو خدا کی راہ میں جہاد کی خاطر نکلیں گے اور بادشاہوں کی طرح تخت پر بیٹھے سمندری سفر کریں گے۔ام حرام نے پھر دعا کی درخواست کی کہ وہ اس گروہ میں بھی شامل ہوں۔آپ نے فرمایا " تم گروہ اولین میں شامل ہو ، گر وہ آخرین میں شریک نہیں۔“ حضرت انس کہتے ہیں کہ پھر یہی حضرت ام حرام سمندری سفر میں شامل ہوئیں اور اسی سفر سے واپسی پر سواری سے گر کر وفات پائی۔( بخاری )12