اسوہء انسانِ کامل — Page 158
158 مخبر صادق کے رؤیا وکشوف اور پیشگوئیاں اسوہ انسان کامل پھونک ماری تو وہ اُڑ گئے۔میں نے اس رویا کی یہ تعبیر کی کہ دو جھوٹے دعویدار ہیں جن کے درمیان میں میں ہوں۔ایک تو صنعاء کا باشندہ (اسود عنسی ) دوسرا یمامہ کا رہنے والا ( مسیلمہ کذاب )۔( بخاری )8 یہ رویا بھی حضور کی زندگی میں پوری ہوئی اور ان دونوں مدعیان نے رسول اللہ کی زندگی میں نبوت کے دعوے کئے۔اسود عنسی آپ کی زندگی میں اور مسلمہ بعد میں ہلاک ہوا۔خلافت ابو بکر و عمرہ کے متعلق رویا خدا تعالیٰ کے ہر مامور کی طرح نبی کریم کو اپنے بعد اپنے مشن کے جاری اور قائم رہنے کی فکر لاحق تھی۔اللہ تعالیٰ نے یہ فکر اُس رؤیا کے ذریعے دور فرما دی جس میں حضرت ابوبکر کے مختصر زمانہ خلافت اور حضرت عمرؓ کے فتوحات سے بھر پور پُر شوکت عہد کی طرف اشارہ تھا۔نبی کریم نے فرمایا کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں سیاہ رنگ کی بکریوں کے لئے کنوئیں سے پانی کھینچ رہا ہوں جن میں کچھ گندمی رنگ کی بکریاں بھی ہیں۔اتنے میں ابو بکر آئے انہوں نے ایک یا دو ڈول پانی کھینچا اور ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری تھی پھر عمر آئے اور انہوں نے ڈول لیا تو وہ اسے بھرا ہوا کھینچ لائے۔انہوں نے تمام لوگوں کو پانی سے سیراب کیا اور تمام بکریوں نے پانی پی لیا۔میں نے آج تک ایسا کوئی باکمال و با ہمت جواں مرد نہیں دیکھا جو حضرت عمر جیسی طاقت رکھتا ہو۔( بخاری )9 چنانچہ یہ رویا بھی بڑی شان سے پوری ہوئی۔حضرت عمر کے زمانہ میں قیصر و کسریٰ کی عظیم فتوحات کی بنیا درکھ دی گئی اور بڑی بڑی فتوحات ہوئیں۔فتح ایران اور سراقہ بن مالک کے بارہ میں پیشگوئی سفر ہجرت میں سو اونٹوں کے انعام کے لالچ میں رسول اللہ کا تعاقب کرنے والے سراقہ بن مالک کے حق میں بھی رسول اللہ کی پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی۔حضرت ابوبکر ہجرت نبوی کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ ہمارا تعاقب کر نیوالوں میں سے صرف سراقہ بن مالک ہی ہم تک پہنچ سکا جو اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ ہمیں پکڑنے کیلئے آیا ہے۔آپ نے فرمایا اے ابو بکرغم نہ کر واللہ ہمارے ساتھ ہے۔جب سراقہ ہمارے قریب ہوا تو رسول کریم نے دعا کی کہ اے اللہ ہماری طرف سے تو خود اسکے لئے کافی ہو۔تب اچانک اسکے گھوڑے کے اگلے دو پاؤں زمین میں جنس گئے۔اس پر سراقہ کہنے لگا مجھے پسند چل گیا ہے کہ یہ آپ کی دعا کا نتیجہ ہے۔اب آپ دعا کریں اللہ مجھے اس سے نجات دے۔خدا کی قسم اپنے پیچھے آنیوالوں کو میں آپ کے بارہ میں نہیں بتاؤں گا۔آپ میرے تیر بطور نشانی لے لیں۔فلاں جگہ جب میرے اونٹوں اور بکریوں کے ریوڑ کے پاس سے آپ گزریں تو اپنی ضرورت کے مطابق جو چیز چاہیں لے لیں۔حضور نے فرمایا مجھے اس کی ضرورت نہیں۔پھر آپ نے اس کے لئے دعا کی اور اس کے گھوڑے کے پاؤں باہر نکل آئے۔(احمد) 10