اسوہء انسانِ کامل — Page 157
اسوہ انسان کامل 157 مخبر صادق کے رویا وکشوف اور پیشگوئیاں اگلی صبح جب وہ دونوں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان دونوں سے فرمایا کہ میرے رب نے فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو رات کے وقت تمہارے رب کو ہلاک کر دیا ہے اور اس کے بیٹے شیر و یہ کو اس پر مسلط کر کے اسے قتل کیا ہے۔وہ دونوں کہنے لگے آپ کو پتہ ہے کہ آپ کیا کہ رہے ہیں۔ہم اس سے معمولی بات پر بڑی بڑی سزائیں دیا کرتے ہیں۔کیا ہم آپ کی بات شہنشاہ کولکھ کر بھیج دیں۔آپ نے بڑے جلال سے فرمایا۔ہاں! میری طرف سے اسے یہ اطلاع کر دو اور اسے جا کر یہ پیغام دو کہ میرا دین اور میرا غلبہ یقینا تمہارے ملک ایران پر بھی ہوگا اور اس کو کہ دینا کہ اگر تم اسلام قبول کر لوتو تمہارا یہ ملک تمہارے ماتحت کر دیا جائے گا اور تمہیں تمہاری قوم پر حاکم بنادیا جائے گا۔یہ دونوں شخص جب حاکم یمن باذان کے پاس پہنچے تو اس نے کہا یہ کسی بادشاہ کا کلام نہیں ہے یہ شخص تو نبی معلوم ہوتا ہے۔جو کچھ اس نے کہا ہے ہم اس کا انتظار کرتے ہیں۔اگر تو یہ بیچ نکلا تو یقیناً یہ خدا کا بھیجا ہوا نبی ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو ہم اس کے بارے میں اپنا فیصلہ کریں گے۔تھوڑے ہی عرصے بعد باذان کو نئے شہنشاہ شیرویہ کا خط آیا، جس میں لکھا تھا۔میں نے اپنے ملک ایران کے مفاد کی خاطر کسری کو قتل کیا ہے کیونکہ وہ ایرانی سرداروں اور معززین کے قتل کا حکم دیتا اور ان کو قید کرتا تھا۔اب تم میرا یہ خط پہنچتے ہی عوام سے میری اطاعت کا عہد لو اور کسری نے جو خط حجاز کے ایک شخص کی گرفتاری کا لکھا تھا کا لعدم سمجھو یہاں تک کہ میرا دوسرا حکم تمہیں پہنچے۔کسری کے بیٹے کا خط پڑھتے ہی باذان کہنے لگا یہ شخص تو اللہ کا رسول ہے۔چنانچہ اس نے فوراً اسلام قبول کر لیا اور کئی ایرانی باشندے بھی جو یمن میں آباد تھے مسلمان ہو گئے۔(طبری)6 اسود عنسی کے قتل کی خبر حضرت عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کو رات کے وقت اسود عنسی (مدعی نبوت) کے قتل کی خبر دی۔آپ نے ہمیں علی اصح اطلاع فرمائی کہ آج رات اسود عنسی قتل ہو گیا ہے۔ایک مبارک آدمی نے اس کو قتل کیا ہے۔پوچھا گیا وہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اس کا نام فیروز ہے۔جو یمن سے تعلق رکھتا ہے۔(کنز )7 2- تعبیر طلب رؤیا اور ان کا پورا ہونا دوسری قسم کی رؤیا یا پیشگوئیاں وہ ہیں جو اپنے ظاہری الفاظ میں پوری نہیں ہوتیں بلکہ تعبیر طلب ہوتی ہیں۔رسول کریم کو ان کی تعبیر کے بارہ میں بھی قبل از وقت علم عطا فر مایا گیا اور آپ نے وقت سے پہلے کھول کر بتا دیا کہ اس رویا کے مطابق یوں واقعہ ہو گا۔اور پھر اسی طرح ظہور میں آکر وہ واقعات آپ کی سچائی کے گواہ بنے۔جھوٹے مدعیان نبوت کے ظہور کی پیشگوئی حجۃ الوداع کے بعد نبی کریم نے دو جھوٹے مدعیان نبوت کے بارہ میں اپنی یہ رویا بیان فرمائی کہ میں سویا ہوا تھا۔زمین کے خزانے مجھے دیئے گئے۔میں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں دوسونے کے کنگن دیکھے۔میری طبیعت پر یہ بات گراں گزری۔سونے کے یہ کنگن میرے لئے باعث پریشانی ہوئے۔تب مجھے وحی ہوئی کہ ان کو پھونک ماریں۔میں نے