اسوہء انسانِ کامل — Page 147
اسوہ انسان کامل 147 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز (45) رسول خدا کی قبولیت دعا کا یہ جلابی نشان بھی قابل ذکر ہے۔بنو نجار سے ایک عیسائی شخص مسلمان ہوا اس نے سورۃ البقرۃ اور آل عمران بھی یاد کر لی (لکھنا پڑھنا جانتا تھا ) نبی کریم کی وحی بھی لکھنے لگا مگر کچھ عرصہ بعد مرتد ہو کر پھر عیسائی ہو گیا اور یہود سے جاملا۔وہ اس سے بہت خوش ہوئے۔وہاں جا کر یہ شخص دعوے کرنے لگا کہ محمد دانے کو تو کچھ نہیں آتا میں ہی لکھ کر دیا کرتا تھا۔اس پر یہود نے اسے اور عزت دی۔معلوم ہوتا تھا کہ یہ عیسائی کسی خاص سازش کیلئے بھیجا گیا تھا اور مقصد طائفہ یہود کی طرح یہ تھا کہ صبح مسلمان ہو کر شام کو انکار کر دو تا کہ مسلمان بھی بدظن ہوکر پھر جائیں۔چونکہ اب وہ شخص وحی الہی کو اپنی طرف منسوب کر رہا تھا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حق و باطل کے لئے خدا تعالیٰ سے خاص نشان طلب کیا اور دعا کی کہ ”اے اللہ! اس شخص کو عبرت کا نشان بنا۔یہ دعا اس طرح قبول ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے جلد ہی اس شخص کو ہلاک کر دیا۔چنانچہ اسے دفن کر دیا گیا مگر خدا تعالیٰ نے اسے عبرت ناک نشان بنانا تھا۔صبح ہوئی تو دنیا نے یہ حیرت انگیز نظارہ دیکھا کہ زمین نے اسے قبر سے نکال باہر پھینک دیا ہے۔عیسائی کہنے لگے کہ یہ کام محمد ہے اور اس کے ساتھیوں کا ہے کہ اس شخص کے مرتد ہونے کی وجہ سے انہوں نے اس کی قبر کھود کر نعش نکال باہر پھینکی ہے۔چنانچہ انہوں نے اسے دوبارہ دفن کر دیا اور اس دفعہ قبر اتنی گہری کھودی جتنا وہ کھود سکتے تھے لیکن اگلی صبح پھر یہ عجیب ماجرا دیکھنے میں آیا کہ لغش زمین سے باہر پڑی تھی۔عیسائیوں نے پھر وہی الزام دہرایا کہ یہ مسلمانوں کا کام ہے۔اس دفعہ انہوں نے انتہائی گہرا گڑھا کھودا مگر زمین نے تیسری مرتبہ بھی اسے قبول نہ کیا۔اب عیسائیوں کو عقل آئی کہ یہ انسان کے ہاتھوں کا کام نہیں ہو سکتا۔چنانچہ انہوں نے اس کی نعش کو دو چٹانوں کے درمیان رکھ کر اوپر پھر پھینک دیئے۔( مسلم ) 83 اُمت کے لئے دعائیں ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد کی دعاؤں کی وسعت کا یہ عالم تھا جس سے کوئی زمانہ محروم نہیں رہا اور قیامت تک آنے والے متبعین امت کیلئے آپ نے دعائیں کر دی ہیں۔آپ نے اپنے روحانی خلفاء کے حق میں دعا کی کہ اے اللہ ! میرے ان خلفاء کے ساتھ خاص رحم اور فضل کا سلوک فرمانا جو میرے زمانے کے بعد آئیں گے اور میری احادیث اور سنت لوگوں تک پہنچائیں گے۔خود بھی اس پر عمل کریں گے اور دوسروں کو اس کی تعلیم دیں گے۔(سیوطی )84 رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کو مہمات پر بھجواتے ہوئے بھی ان کے لئے دعا کرتے تھے۔اکثر مہمات علی الصبح روانہ فرماتے اور اس موقع پر خاص طور پر یہ دعا کرتے۔اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهِمْ ( احم) 85 اے اللہ ! میری امت کے صبح کے سفروں میں خاص برکت عطا فرما۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کا اتنا خیال رکھا کہ اس کے حق میں یہ دعا کی اے اللہ ! جو شخص بھی