اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 142 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 142

اسوہ انسان کامل 142 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز (30) اللہ تعالیٰ کی راہ میں خدمت کرنے والے صحابہ کے لئے رسول کریم بہت دعائیں کیا کرتے تھے۔مخلص خدام کیلئے بسا اوقات آپ کے دل سے ایسی دعا نکلتی تھی کہ معجزانہ رنگ میں اس کی قبولیت کے اثرات ظاہر ہوتے تھے۔عبداللہ بن عتیک انصاری ایک مہم پر بھجوائے گئے۔واپسی پر ایک حادثہ میں انکی ٹانگ کو شدید ضرب آئی اور پنڈلی ٹوٹ گئی۔وہ کہتے ہیں میں ایک ٹانگ پر کودتا ہوا اپنے ساتھیوں تک پہنچا۔پھر رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے فرمایا اپنا پاؤں پھیلاؤ۔میں نے پاؤں حضور کے سامنے رکھ دیا۔آپ نے اس پر ہاتھ پھیرا تو ایسے لگا جیسے کبھی مجھے یہ تکلیف ہوئی ہی نہ تھی۔( بخاری ) 66 قبولیت دعا کی پیشگی خبر رسول کریم ﷺ کی دعاؤں کی ایک شان یہ بھی تھی کہ آپ بعض دعاؤں کی قبولیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے علم پا کر قبل از وقت اطلاع فرما دیا کرتے تھے۔(31) ایک مرتبہ نبی کریم حضرت انس بن مالک کے گھر تشریف لے گئے۔وہاں کچھ دیر آرام فرمایا ، دریں اثناء آپ کی آنکھ لگ گئی۔بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔انس کی خالہ ام حرام نے وجہ پوچھی۔آپ نے فرمایا مجھے سمندر پر سفر کرنے والے بعض اسلامی لشکروں کا نظارہ کروایا گیا ہے جو تختوں پر بیٹھے ہوئے گویا بادشاہوں کی طرح سفر کر رہے ہیں۔حضرت ام حرام کو کیا سوجھی۔عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ دعا کریں میں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہو جاؤں۔آپ نے اپنی اس مخلص اور خدمت گزار خاتون کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے ان کے حق میں دعا کی کہ اے اللہ ! ان کو بھی اسلامی لشکر کے اس بحری سفر میں شریک کر دے، دوبارہ حضور پر غنودگی طاری ہوئی اور آپ نے ایک دوسرے نظارے کا ذکر کیا۔اُم حرام نے کہا یا رسول اللہ ! میرے لئے ان لوگوں میں بھی شامل ہونے کی دعا کریں۔رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ تم پہلے گروہ میں شامل ہو چکیں، (جس کے بارے میں چند لمحے قبل حضور نے دعا کی تھی ) یہ دعا غیر معمولی اور حیرت انگیز طور پر پوری ہوئی۔ام حرام کو خدا تعالیٰ نے لمبی عمر دی اور اس زمانے تک زندہ رکھا جب اسلامی لشکر حضرت معاویہ کے زمانے میں قبرص کے بحری سفر پر روانہ ہوا۔اُم حرام بھی اپنے خاوند حضرت عبادہ بن صامت کے ساتھ اس مہم میں شریک ہوئیں۔سفر سے واپسی پر شام میں ساحل سمندر پر اترتے ہوئے سواری سے گر کر فوت ہوگئیں۔( بخاری )67 (32) خدا تعالیٰ سے علم پا کر دعا کی قبولیت کی اسی وقت اطلاع دینے کا ایک اور واقعہ حضرت سعد بن ابی وقاص سے تعلق رکھتا ہے جو ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے۔آپ نے مکہ سے ہجرت کر لی تھی۔حجتہ الوداع کے موقع پر مکہ میں بیمار ہوئے تو فکر لاحق ہوئی کہ اگر مکہ میں وفات ہوئی تو انجام کے لحاظ سے ہجرت کا ثواب ضائع نہ ہو جائے۔رسول کریم ان کی بیمار پرسی کے لئے گئے۔انہوں نے اپنے اس خدشہ کے اظہار کے ساتھ دعا کی خصوصی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا کہ حضور میرے لئے دعا کریں کہ اللہ مجھے مکہ میں وفات نہ دے جہاں سے میں ہجرت کر چکا ہوں۔اس وقت