اسوہء انسانِ کامل — Page 141
اسوہ انسان کامل 141 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز 60 ہوئی اور اس کے پیٹ سے سیاہ رنگ کا چھوٹا سا سانپ نکل کر بھاگ گیا۔(احمد) 59 (25) حضرت سائب بن یزید بیان کرتے ہیں کہ مجھے میری خالہ رسول کریم کی خدمت میں لے گئیں اور عرض کیا کہ حضور یہ میرا بھانجا سائب بیمار ہو گیا ہے۔آپ اس کیلئے دعا کریں۔حضور نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے حق میں برکت کی دعا کی۔حضور نے وضو فر مایا تو میں نے آپ کے وضوء کا بچا ہوا پانی بطور تبرک پی لیا۔( بخاری ) 0 سائب سن 2 ھ میں پیدا ہوئے تھے یہ واقعہ پانچ چھ برس کی عمر کا معلوم ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے سائب کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت سے نہ صرف شفادی بلکہ لمبی عمر عطا فرمائی اور سن 80ھ میں بعمر 78 برس ان کا انتقال ہوا۔( ابن اثیر ( 1 ) 61 (26) یزید بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ کی پنڈلی پر ایک زخم کا نشان دیکھا۔میں نے ان سے پوچھا یہ کیسا نشان ہے؟ انہوں نے بتایا کہ خیبر کے دن مجھے یہ زخم آیا تھا۔زخم اتنا بڑا تھا کہ لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ سلمہ زخمی ہو گیا ہے۔مجھے اٹھا کر نبی کریم کی خدمت میں لایا گیا۔آپ نے دعا کر کے) تین پھونکیں مجھ پہ ماریں۔تو اسی وقت وہ زخم اچھا ہو گیا۔ایسے معلوم ہوتا تھا کہ کوئی زخم آیا ہی نہیں۔(صرف نشان باقی رہ گیا)۔اس کے بعد پھر کبھی اس میں تکلیف نہیں ہوئی۔( بخاری )62 (27) عمرو بن اخطب بیان کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے چہرے پر پھیرا اور میرے حق میں صحت اور خوبصورتی کی دعا کی۔اللہ تعالیٰ نے یہ دعا اس طرح قبول فرمائی کہ عمر کو صحت والی لمبی زندگی اور اولاد عطا فرمائی۔ایک سو بیس سال کی عمر میں بھی ان کی ایسی صحت تھی کہ سر میں صرف چند سفید بال تھے۔(ترمندی ) 63 (28) حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ کے چا ابوطالب بیمار ہوئے۔آپ ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔انہوں نے کہا بھتیجے! اپنے اس رب سے جس نے تجھے مبعوث کیا ہے دعا کر کہ وہ مجھے اچھا کر دے۔نبی کریم نے اسی وقت دعا کی ”اے اللہ میرے چچا کو شفا دے۔یہ دعا حیرت انگیز رنگ میں فی الفور قبول ہوئی۔ابو طالب اسی وقت اس طرح کھڑے ہو گئے جیسے ان کے بندھن کھول دیئے گئے ہوں۔اور کہنے لگے اے محمد ! واقعی تیرے رب نے تجھے بھیجا ہے اور وہ تیری بات بھی خوب مانتا ہے۔آنحضور نے فرمایا اے چا اگر آپ بھی اللہ تعالیٰ کی باتیں مانیں تو وہ ضرور آپ کی بھی سنے گا اور مانے گا۔(حاکم) 4 یہ واقعہ ابوطالب کے دلی طور پر قبول اسلام کا سبب ہوا۔(29) حضرت ابو قتادہ کے لئے رسول اللہ ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ ان کو کامیاب و کامران کر اور ان کے بالوں اور چہرہ کو برکت دے، چنانچہ ابو قتادہ نے صحت والی لمبی عمر پائی۔روایت ہے کہ ستر برس کی عمر میں بھی وہ پندرہ سالہ صحت مند جوان نظر آتے تھے۔( عیاض ) 65