اسوہء انسانِ کامل — Page 140
اسوہ انسان کامل 140 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز (20) حضرت عروہ کے لئے آپ نے برکت کی دعا کی۔وہ خود کہا کرتے تھے کہ میں نے بازار جا کر سود الگایا اور ره بسا اوقات چالیس ہزار تک منافع لے کر واپس لوٹا۔امام بخاری نے لکھا ہے کہ عروہ مٹی بھی خریدتے تھے تو اس میں منافع پاتے تھے۔(سیوطی ) 55 شفاء کی دعائیں (21) رسول کریم ﷺ نے مختلف مواقع پر بعض بیماروں کیلئے معجزانہ شفا کی دعا مانگی۔خدا تعالیٰ نے اس دعا کی قبولیت کے فوری اثرات ظاہر فرمائے، غزوہ خیبر میں رسول اکرم نے اعلان فرمایا کہ کل میں جس شخص کو جھنڈا دوں گا اس کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا۔روایات کے مطابق بعض صحابہ نے اس امید میں رات بسر کی کہ شاید اس خوش قسمتی کا قرعہ فال ان کے نام پڑے۔حضرت علی کو آشوب چشم کی تکلیف تھی ، آنکھیں اتنی شدید دکھتی تھیں کہ صحابہ کا اس طرف خیال ہی نہیں گیا کہ یہ عظیم فاتح حضرت علی بھی ہو سکتے ہیں۔اگلی صبح جب حضور نے حضرت علی کو یا د فرمایا تو صحابہ نے ان کی بیماری کی وجہ سے معذرت کرنا چاہی مگر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کو بلا کر آنکھوں میں لعاب دہن لگایا اور دعا کی۔خدا نے حضرت علی کو معجزانہ طور پر اسی وقت شفا عطا فرمائی اور شفا بھی ایسی کہ یوں لگتا تھا جیسے پہلے کبھی آپ کی آنکھیں خراب ہی نہ ہوئی تھیں۔( بخاری ) 56 (22) ایک اور موقع پر رسول کریم نے حضرت علی کے حق میں گرمی و سردی کے اثر سے محفوظ رہنے کی دعا کی چنانچہ وہ گرمی و سردی کے اثر سے محفوظ رہتے تھے۔(ابن ماجہ ) 57 (23) حضرت یعلی بن مرہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول کریم کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔راستہ میں ایک عورت ملی جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! اس بچے کو نیند کی حالت میں نامعلوم کتنی مرتبہ دورہ پڑتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ بچہ مجھے پکڑا ؤ۔میں نے بچہ حضور کو دیا۔آپ نے اسے اپنے پالان پر بٹھایا اور اس کا منہ کھول کر اس میں تین پھونکیں ماریں اور اسے اپنا لعاب دھن دیا اور فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ اے اللہ کے بندے۔اے اللہ کے دشمن دور ہو جا “ پھر حضور نے وہ بچہ واپس پکڑا دیا اور اس عورت سے فرمایا کہ واپسی سفر میں اسی جگہ آکر ملنا اور بچے کا حال بتانا۔سفر سے واپسی پر وہ عورت وہاں موجود تھی۔اس کے ساتھ تین بکریاں بھی تھیں۔رسول کریم نے پوچھا بچے کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا خدا کی قسم اس گھڑی تک اُسے کوئی دورہ نہیں پڑا۔پھر اس نے تین بکریاں حضور کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کیں نبی کریم نے مجھے فرمایا کہ سواری سے نیچے اتر و اور ایک بکری لے کر باقی واپس کر دو۔(احمد) 58 (24) حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت اپنے بچے کو لے کر آئی اور عرض کیا کہ اسے کھانے کے وقت جنون کا دورہ ہوتا ہے۔رسول کریم نے اس کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی۔اچانک اسے کھل کر ایک قے