اسوہء انسانِ کامل — Page 134
134 اسوہ انسان کامل رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز (6) ایک دفعہ ایک یہودی نبی کریم کے پاس بیٹھا تھا۔حضور کو چھینک آئی تو یہودی نے يَرحَمُكَ الله کہا کہ اللہ آپ پر رحم کرے۔نبی کریم نے اسے جواب یہ دعادی کہ اللہ تمہیں ہدایت دے۔چنانچہ اس یہودی کو اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا ہوئی۔(سیوطی ) 37 ہمارے آقا و مولیٰ کی یہ دعائیں ہی تھیں جنہوں نے سرزمین عرب کی کایا پلٹ دی تھی۔یہ تو ان دعاؤں کا ذکر تھا جو قوم کی ہدایت کے لئے گاہے بگا ہے آپ نے کیں مگر آپ کا وجود تو مجسم دعا تھا۔چلتا پھرتا دعاؤں کا ایک پیکر۔ایسے لگتا ہے کہ مَا يَعْبَوابِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمُ (الفرقان : 78 ) ( کہ اگر تم دعا نہ کرو تو خدا کو تمہاری کیا پرواہ ہے ) کا ارشاد ہر دم آپ کے مد نظر رہتا تھا۔غزوات میں دعائیں رسول اللہ کی زندگی کی تمام تر فتوحات بھی دراصل آپ کی دعاؤں کی ہی مرہون منت تھیں۔ہر مشکل مرحلے پر آپ ہمیشہ خدا کو یاد کرتے اور نصرت الہی طلب کرتے نظر آتے ہیں۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ دعا آپ کی زندگی اور آپ کی جملہ مہمات دینیہ کی ایک کلید تھی۔جسے آپ ہر ضرورت کے وقت استعمال فرماتے تھے۔ہمیشہ یہ کلید آپ کے لئے فتوحات کے دروازے کھولتی ہوئی نظر آتی ہے۔(7) بدر کی فتح کو اگر کوئی 313 نہتے مسلمانوں کی فتح قرار دیتا ہے تو دے، میں تو یہ جانتا ہوں کہ یہ دراصل میرے آقا و مولیٰ کی ان بے قرار دعاؤں کی فتح تھی جو بدر کی جھونپڑی میں نہایت عاجزی اور اضطراب سے آپ نے مانگیں۔اس روز آپ نے اپنے موٹی کو نا معلوم کیا کیا واسطے دیئے۔یہاں تک کہ اسے اس کی توحید کا واسطہ دے کر کہا اے مولیٰ ! آج تو نے اس چھوٹی سی موحد جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر تیری عبادت کون کریگا۔( بخاری ) 38 کس قدر خدائی غیرت کو جوش دلانے والی ہے یہ دعا۔گو یا بالفاظ دیگر آپ اپنے مولیٰ سے یوں مخاطب تھے کہ ان مٹھی بھر جانوں کی تو پرواہ نہیں، مجھے تو تجھ سے اور تیری توحید سے غرض ہے اور سالہا سال کی محنت کے بعد چند موحد عبادت گزاروں کی یہ مٹھی بھر جماعت میں نے اکٹھی کی ہے۔اگر اس جماعت کو بھی تو نے ہلاک کر دیا تو مجھے یہ فکر ہے کہ تیرے نام لیوا کہاں سے آئیں گے؟ بدر کے جھونپڑے میں کی جانے والی یہ دعا ہی تھی کہ بارگاہ الوہیت میں جب مقبول ہوئی تو اس نے کنکروں کی ایک مٹھی کو طوفان بادوباراں میں بدل کے رکھ دیا اور تین سو تیرہ نہتے مسلمانوں کو مشرکین کے ایک ہزار مسلح لشکر جرار پر فتح عطا فرمائی۔(بیشمی ) 39 حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ بدر کے موقع پر رسول اللہ ساری رات دعا کرتے رہے۔عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ہم نے خدا کے برحق واسطے دے کر محمد سے بڑھ کر دعا کرنے والا کوئی نہیں سنا۔آپ نے بدر میں بڑے الحاج کے ساتھ دعا کر کے جب سر اٹھایا تو آپ کا چہرہ چاند کی طرح چمک رہا تھا۔آپ نے فرمایا آج شام دشمن قوم کے لوگ جس