اسوہء انسانِ کامل — Page 120
120 رسول کریم کی قرآن کریم سے گہری محبت اور عشق اسوہ انسان کامل قیس بن عاصم نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا جو وحی آپ پر نازل ہوئی ہے۔اس میں سے کچھ سنائیں نبی کریم نے سورۃ الرحمان سنائی وہ کہنے لگا دوبارہ سنائیں۔آپ نے پھر سنائی اس نے تیسری بار پھر درخواست کی تو آپ نے تیسری مرتبہ سنائی جس پر وہ کہہ اُٹھا خدا کی قسم اس کلام میں روانی اور ایک شیرینی ہے اس کلام کا نچلا حصہ زرخیز ہے تو اُوپر کا حصہ پھلدار ہے۔اور میہ انسان کا کلام نہیں ہوسکتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے ساتھ کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔( قرطبی ( 19 حضرت زید بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت ابی بن کعب نے رسول کریم ﷺ کی موجودگی میں صحابہ کو قرآن کی تلاوت سنائی تو سب پر رقت طاری ہوگئی۔رسول کریم نے فرمایا رقت کے وقت دعا کو غنیمت جانو کیونکہ یہ بھی رحمت ہے۔( قرطبی) 20 کلام الہی سن کر رسول کریم پر رقت طاری ہو جاتی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے تھے۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے ایک روز آپ نے فرمایا کچھ قرآن سناؤ ! جب وہ اس آیت پر پہنچے فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلَّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هُوَ لَاءِ شَهِيدًا (سورۃ النساء : 42) پس کیا حال ہو گا جب ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے۔اور ہم تجھے ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔تو آپ ضبط نہ کر سکے اور آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی بہہ نکلی۔ہاتھ کے اشارے سے فرمایا بس کرو۔( بخاری ) آپ کی خشیت کا یہ عالم تھا کہ حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم نے ایک شخص کو تلاوت کرتے سنا جو سورہ مزمل کی اس آیت کی تلاوت کر رہا تھا۔اِنَّ لَدَيْنَا انْكَالًا وَجَحِيمًا (یعنی ہمارے پاس بیٹیاں اور جہنم ہے تو نبی کریم کے مدہوش ہو کر گر پڑے۔(کنز ) 22 21 حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں رسول اللہ کے ساتھ مجھے ایک رات گزارنے کا موقع ملا۔آپ نے بسم اللہ کی تلاوت شروع کی اور رو پڑے یہاں تک کہ روتے روتے گر گئے۔پھر میں مرتبہ بسم اللہ پڑھی ہر دفعہ آپ روتے روتے گر پڑتے۔آخر میں مجھے فرمانے لگے وہ شخص بہت ہی نامراد ہے جس پر رحمن اور رحیم خدا بھی رحم نہ کرے۔(ابن جوزی) 23 کند ہ قبیلہ کا وفد رسل اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے آپ سے کوئی نشان صداقت طلب کیا۔آپ نے قرآن شریف کے اعجازی کلام کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایسا کلام ہے جس پر کبھی بھی باطل اثر انداز نہیں ہوسکتا نہ آگے سے نہ پیچھے سے۔پھر آپ نے سورۂ صفت کی ابتدائی چھ آیات کی خوش الحانی سے تلاوت کی۔وَالصَّفْتِ صَفًّا فَالزَّجِراتِ زَجْرًا فَالتَّلِيتِ ذِكْرًا هِ إِنَّ الهَكُمْ لَوَاحِدٌ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِق (الصفت : 1تا 6) ترجمہ: قطار در قطار صف بندی کرنے والی (فوجوں) کی قسم پھر اُن کی جو للکارتے ہوئے ڈپٹنے والیاں ہیں۔پھر