اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 116 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 116

اسوہ انسان کامل 116 رسول کریم کی قرآن کریم سے گہری محبت اور عشق رسول کریم کی قرآن کریم سے گہری محبت اور عشق قرآن اللہ تعالیٰ کا پاک کلام اور وہ آخری مکمل ترین شریعت ہے جو قیامت تک بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر پر نازل کی گئی۔فصیح و بلیغ عربی زبان میں نازل ہونے والا یہ کلام اپنے نفس مضمون کی وسعت و گہرائی ، حقائق و دقائق ، دلائل و فضائل اور فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے ایسا بے مثل ہے کہ اس کی چھوٹی سے چھوٹی سورت یا چند آیات کی مثال لانے پر بھی آج تک کوئی قادر نہ ہوسکا۔قرآن عظیم کا اپنے جیسی نظیر پیش کرنے کا لا جواب چیلنج آج تک اس کی عظمت اور فتح کا نقارہ بجارہا ہے۔یہ وہی پاک کلام ہے جسے مشہور قادرالکلام عرب شاعر لبید نے سنا تو اس کی عظمت کے آگے گھٹنے ٹیک دینے پر ایسا مجبور ہوا کہ شعر کہنے چھوڑ دئیے۔چنانچہ جب اسے تازہ کلام سنانے کو کہا گیا تو کہنے لگا میں نے جب سے کلام اللہ کی یہ آیت سنی ہے الم ذلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ۔میں نے شعر کہنے چھوڑ دیئے۔(قرطبی) 1 حضرت عمر کا قبول اسلام بھی قرآنی تائید کا اعجاز تھا۔ایک وقت تھا جب وہ رسول اللہ کوقتل کرنے کا پختہ ارادہ کر کے گھر سے نکلے تھے۔مگر راستے میں اپنی بہن کے ہاں سورۃ طہ کی ابتدائی آیات پڑھتے ہی بے اختیار کہہ اٹھے۔یہ کہنا خوبصورت عزت والا کلام ہے اور بالآخر اسلام قبول کر لیا۔( قرطبی )2 مشہور سردار قریش عتبہ قریش کا نمائندہ بن کر رسول کریم کو سمجھانے کی غرض سے آیا تو آپ نے اسے سورۃ حم فضلت کی ابتدائی آیات سنائیں۔جب حضور سجدہ والی آیت پر پہنچے تو وہ بے اختیار حضور کے ساتھ سجدے میں شامل ہوا اور کہ اُٹھا کہ خدا کی قسم ! یہ نہ تو شعر ہے نہ کسی کا ھن کا کلام ہے اور نہ جادو ہے۔خدا کی قسم میں نے محمد سے ایسا کلام سنا ہے کہ آج تک کبھی ایسا کلام نہیں سنا۔(حاکم)3 اس پاک کلام کی اصل شان اس وقت ظاہر ہوتی تھی جب خود خدا کا رسول اس کی تلاوت کر کے سناتا تھا جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔رَسُولٌ مِّنَ اللَّهِ يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبْ قَيِّمَةٌ (البَيِّنة: 3 ) یعنی اللہ کا رسول مطہر صحیفے پڑھتا تھا۔اُن میں قائم رہنے والی اور قائم رکھنے والی تعلیمات تھیں۔رسول اللہ جب اس دلکش کلام کی آیات پڑھ کر سناتے تھے تو عرش کے خدا کو بھی اس پر پیار آتا تھا چنانچہ فرمایا وَمَاتَكُونُ فِي شَأْنٍ وَّمَا تَتْلُوا مِنْهُ مِنْ قُرْآنِ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ (يونس : 62)