اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 112 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 112

اسوہ انسان کامل 112 ذکر الہی اور حمد وشکر میں اسوہ رسول دین کی گہری سمجھ عطا کر۔اس دعا نے حضرت عبد اللہ بن عباس کی زندگی کی کایا پلٹ دی۔( بخاری ) 37 نبی کریم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو انصار مدینہ نے خدمات کی سعادت پائی۔بعض نے کھجور کے درخت پیش کر دئیے۔اسکے بعد جب بنو قریظہ اور بنو نضیر کے اموال غنیمت آئے تو آپ ان قربانی کر نیوالے انصار کا خاص خیال رکھتے اور اُن کے تحائف کا بدلہ بہترین رنگ میں اُنہیں واپس دینے کی کوشش فرماتے تھے۔( بخاری ) 38 فتح مکہ کے بعد بھی رسول کریم نے انصار کی تالیف قلبی اور احساسات و جذبات کا خاص خیال رکھا اور فرمایا اب میرا مرنا جینا تمہارے ساتھ ہے۔چنانچہ آپ نے مدینہ کو ہی اپنا وطن ثانی قرار دیئے رکھا۔انصار کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی۔فرمایا ” انصار کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔( بخاری ) 39 کعب بن ڈھیر مشہور عرب شاعر تھا جو رسول اللہ کے خلاف گندے اشعار کہنے کی وجہ سے لائق گرفت تھا۔جب وہ معافی کا خواستگار ہو کر حاضر خدمت ہوا تو حضور کی شان میں ایک قصیدہ کہا جس میں مہاجرین کی تعریف کی اور انصار کا ذکر نہیں کیا۔رسول کریم کو انصار کی اتنی دلداری مقصود ہوتی تھی ، فرمانے لگے کہ تم نے انصار کی شان میں کچھ نہیں کہا۔یہ بھی مدح کے مستحق ہیں۔تو اس نے انصار کے لئے یہ شعر کہا مَنْ سَرَّهُ كَرَمَ الْحَيَاةِ فَلَا يَزَلُ فِي مِقْنَبٍ مِنْ صَالِحِى الْأَنْصَارِ جس شخص کو باعزت زندگی پسند ہے وہ ہمیشہ نیک انصار کے شہ سواروں کے دستہ میں شامل رہے گا۔(حلبیہ (40 الغرض نبی کریم ﷺ کے ساتھ جس کسی نے زندگی میں کبھی کوئی نیکی کی آپ نے کبھی فراموش نہیں کیا۔حتی کہ عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین نے غزوہ بدر کے بعد رسول اللہ کے چچا حضرت عباس کو عند الضرورت جو قمیص مہیا کیا تھا اسے بھی یا درکھا اور عبداللہ کی وفات پر اپنا قمیص اس کے کفن کے لئے عطا فر مایا۔( بخاری ) 41 نبی کریم حضرت خدیجہ کی خدمات کو بھی ہمیشہ یادر کھتے تھے۔حضرت عائشہ نے ایک دفعہ اس بارہ میں از راہ غیرت کچھ عرض کیا تو فرمایا ”جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا تو خدیجہ نے قبول کیا۔جب لوگوں نے انکار کیا تو وہ ایمان لائیں۔جب لوگوں نے مجھے مال سے محروم کیا تو انہوں نے اپنے مال سے میری مدد کی اور اللہ نے مجھے ان سے اولاد بھی عطا فرمائی۔(مسند احمد )42 نبی کریم جب اہل مکہ کے رویہ سے مایوس ہو کر تبلیغ اسلام کے لئے طائف تشریف لے گئے تو واپسی پر مکہ میں داخلہ سے قبل حسب دستور کسی سردار کی امان لینی ضروری تھی۔آپ نے مختلف سرداروں کو پیغام بھجوائے مگر کسی نے حامی نہ بھری سوائے مطعم بن عدی کے جس نے اپنے بیٹوں کو بھجوایا کہ حضور کو اپنی حفاظت میں شہر میں لے آئیں۔نبی کریم نے مطعم کا یہ احسان ہمیشہ یادرکھا۔وہ بدر سے پہلے وفات پاچکے تھے مگر بی کریم نے بدر کی فتح کے بعد جب ستر کفار مکہ کو