اسوہء انسانِ کامل — Page 107
اسوہ انسان کامل 107 ذکر الہی اور حمد وشکر میں اسوہ رسول اور زمین بھر جائیں اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے وہ بھی بھر جائے۔( مگر تیری حد ختم نہ ہو )۔اے تعریف اور بزرگی کے لائق ہستی ! بندہ جتنی تیری تعریف کرے تو اس کا مستحق ہے اور ہم سب تیرے بندے ہی تو ہیں۔( مسلم )8 فرض نمازوں کے علاوہ نوافل میں آپ کے شکرانے کا یہ عالم تھا کہ پوری پوری رات خدا کے حضور عبادت میں گزار دیتے یہاں تک کہ پاؤں سوج جاتے۔حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں تو کیا خوب جواب دیا أَفَلا أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا کہ میں عبد شکور یعنی خدا کا انتہائی شکر گزار بندہ نہ بنوں۔( بخاری )9 محبت الہی اور ذکر و شکر سے بھری اس نماز سے فارغ ہو کر آپ یاد خدا کو بھولتے نہیں تھے بلکہ یہ دعا کرتے تھے۔اللَّهُمَّ أَعِنِّی عَلَى ذِكْرِكَ وَ شُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔(ابوداؤر ) 10 ”اے اللہ ! مجھے اپنے ذکر، اپنے شکر اور خوبصورت عبادت کی توفیق عطا فرما۔اس دعا کی قبولیت عملی زندگی میں لمحہ بہ لمحہ آپ کے ہمرکاب نظر آتی ہے۔رات کا کچھ حصہ آرام کر کے اٹھتے تو پہلا کلمہ جو آپ کی زبان پر جاری ہوتا وہ اللہ کی حمد اور شکر کا کلمہ ہوتا۔آپ اپنے مولیٰ کے حضور اقرار کرتے کہ تمام تعریف اس خدا کی ذات کیلئے ہے جس نے نیند جیسی موت کے بعد ہمیں پھر سے زندگی دی اور بالآخر تو اسی کی طرف لوٹ کر جاتا ہے۔( بخاری ) 11 روکھی سوکھی پر گزارا کرتے ہوئے بھی کھانے کے بعد رسول اللہ کے شکر گزار دل سے بے اختیار حمد اور تشکر کے جذبات نکلتے تھے۔فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے بہت راضی اور خوش ہوتا ہے۔جو ایک لقمہ بھی کھاتا ہے تو اللہ کی حمد اور تعریف کرتا ہے۔پانی پیتا ہے تو اس پر بھی اللہ کی حمد کرتا ہے۔چنانچہ کھانے کے بعد آپ دعا کرتے اس خدا کی تمام تعریف ہے جس نے ہمیں کھانا کھلایا اور پانی پلایا اور ہمیں اپنا فرمانبردار بندہ بنایا۔“ یعنی شکر کی توفیق دی۔(ترمذی )12 گویا تو فیق شکر ملنے پر بھی شکرانہ ادا کرتے تھے۔الغرض ذکر الٹی آپ کے وجود کا جزو لاینفک تھا۔قضائے حاجت سے فارغ ہو جانے پر بھی رسول اللہ ﷺ اللہ کا شکر ہی بجالاتے اور عرض کرتے تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مضر چیز مجھ سے دور کردی مجھے تندرستی عطا کی اور غذا کے نفع بخش مادے میرے جسم میں باقی رکھ لئے۔‘ (ابن ماجہ )13 رات کو بستر پر جاتے ہوئے دن بھر میں ہو نیوالی اللہ کی نعمتوں کا شکر یوں ادا کرتے کہ ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھ پر اپنا احسان اور فضل کیا اور مجھے عطا کیا اور بہت دیا اور ہر حال میں اللہ ہی کی حمد وثنا ہے۔‘ ( ابوداؤد )14 رسول کریم نے فرمایا ” جو شخص صبح کے وقت یہ کہتا ہے اے اللہ تیری جو نعمت اس وقت مجھے حاصل ہے وہ محض تیری طرف سے ہے۔تیرا کوئی شریک نہیں۔وہ شخص اس دن کا شکر ادا کرتا ہے اور جو شام کو یہ کلمات کہتا ہے اس نے اپنی