اسوہء انسانِ کامل — Page 106
106 ذکر الہی اور حمد وشکر میں اسوہ رسول اسوہ انسان کامل رحمانیت کے تحت بغیر کسی تقاضا کے اللہ تعالیٰ کے فیضان عام اور عنایات کے لامحدود سلسلہ نے اس کا احاطہ کیا ہوا ہے۔پھر صفت رحیمیت کے طفیل انسان کی محنت کے اجر کا ایک لامتناہی سلسلہ بھی جاری وساری ہے اور اللہ تعالیٰ کی ان گنت نعمتوں اور احسانات نے اس طرح انسان کو گھیر رکھا ہے کہ بے اختیار سے اس قرآنی آیت کے آگے سر جھکانا پڑتا ہے کہ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو شمار نہیں کر سکو گے۔(سورۃ ابراھیم : 35) قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنے بندوں پر افسوس بھی کیا ہے کہ ان میں سے بہت کم شکر ادا کرنے والے ہوتے ہیں وہاں حق شکر ادا کر نیوالوں کا تعریف کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔شکر نعمت حضرت نوح “ کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وہ عبد شکور تھے۔(سورۃ الاسراء: 4 ) یعنی اللہ تعالیٰ کے انتہائی شکر گزار بندے۔حضرت ابراہیم کے بارہ میں فرمایا کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے۔(سورۃ النحل : 122) پھر آنحضرت کو ارشاد ہوتا ہے کہ آپ اللہ کی عبادت کریں اور شکر کرنے والے بندوں میں شامل ہو جائیں۔(سورۃ الزمر :67) اللہ تعالیٰ کا اپنے شکر گزار بندوں سے وعدہ ہے کہ وہ انہیں اور زیادہ نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ہمارے نبی کریم ﷺے نے واقعی حق شکر ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے بے شمار انعامات سے حصہ پایا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” آپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔“ (سورۃ النساء : 114) رسول اللہ کے شکر نعمت اور یاد الہی کی اصل معراج آپ کی نماز تھی۔جس میں آپ کی آنکھوں اور دل کی ٹھنڈک تھی۔(نسائی)5 عام لوگوں کا دل نماز میں نہیں لگتا اور نماز کے دوران بھی خیالات کہیں اور ہوتے ہیں۔اس کے برعکس نبی کریم کا دل نماز کے علاوہ اوقات میں بھی نماز میں ہی انکا ہوتا تھا۔اللہ کو اتنا یاد کرنے کے بعد بھی آپ اپنے رب کے حضور یہ دعا کرتے تھے کہ رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ ذَاكِرًا لَكَ شَاكِرًا (ابوداؤد ) یعنی ”اے میرے رب مجھے اپنا ذکر کر نیوالا اور اپنا شکر کرنیوالا بنائیں کیونکہ شکر بھی دراصل ذکر الہی اور محبت کے اظہار کا ایک خوبصورت اسلوب ہے۔اور ذکر کی ایک بہترین شکل حمد وثنا ہے۔آپ کی نماز مجسم شکرانہ ہوتی تھی جوالحمد للہ کہ کر اللہ کی حمد سے شروع ہوتی۔اس کا وسط سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَه کہ کر حمد کثیر پر مشتمل ہوتا تو اس کی انتہاء التَّحِيَّاتُ لِلہ کی جامع حمد پر ہی ہوتی تھی۔آپ کے رکوع و سجود بھی اسی حمد الہی سے لبریز ہوتے تھے جن میں آپ تعرض کرتے ”اے اللہ تو پاک ہے اپنی تمام تعریفوں کے ساتھ۔( بخاری )7 رکوع سے اٹھ کر پھر یہ حمد باری یوں ٹھاٹھیں مارتی جیسے بے قرار سمندر۔آپ عرض کرتے اے اللہ ہمارے رب! سب تعریفیں تجھی کو حاصل ہیں۔یہ حمد کر کے بھی آپ کا جی سیر نہ ہوتا تو کہتے تیری اتنی تعریفیں کہ جس سے سارے آسمان