اسوہء انسانِ کامل — Page 102
102 اسوہ انسان کامل نبی کریم کی خشیت اور خوف الہی خدا کے حضور ٹھوڑیوں کے بل سجدہ ریز ہو جاتے ہیں اور اللہ خشوع میں انہیں اور بڑھا دیتا ہے۔(بنی اسرائیل : 110) دوسری جگہ فرمایا کہ خدا کا کلام سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔(سورۃ الزمر : 24) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کون اس مضمون کا مصداق ہوسکتا ہے جو سب سے بڑھ کر خدا ترس تھے۔قرآن پڑھتے اور سنتے ہوئے آپ کی کیفیت بھی یہی ہوتی تھی۔کلام الہی سن کر آپ پر رقت طاری ہو جاتی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے تھے۔ایک روز آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے فرمایا قرآن سناؤ ! جب وہ اس آیت پر پہنچے فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلَّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَّ جِتُنَا بِكَ عَلَى هُوَ لَاءِ شَهِيدًا (النساء : 42) یعنی پس کیا حال ہو گا جب ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے۔اور ہم تجھے ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔تو آپ تاب نہ لا سکے اور آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی بہن نکلی۔آپ نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا بس کرو۔( بخاری ) 36 حضرت ابوھریرہ بیان کرتے ہیں کہ جب ( سورہ نجم کی آخری ) آیت اتری۔أَفَمِنْ هَذَا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ یعنی کیا تم اس بات (یا کلام) سے تعجب کرتے ہو۔اور ہنستے ہو روتے نہیں تو رسول اللہ کے وہ غریب صحابہ جن کا مسجد نبوی کے چبوترے پر بسیرا ہوتا تھا اور اصحاب صفہ کہلاتے تھے ، بہت روئے۔یہاں تک کہ ان کے آنسو سے رخسار بھیگ گئے۔رسول کریم بھی ان کی آہ وزاری سن کر رونے لگے۔ابوھریرہ کہتے ہیں ہم حضور کو روتا دیکھ کر اور رونے لگے۔تب آپ نے فرمایا جو شخص اللہ کی خشیت سے رویا وہ آگ میں داخل نہ ہوگا۔( بیہقی و قرطبی) 37 حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں رسول اللہ کے ساتھ مجھے ایک رات گزارنے کا موقع ملا۔آپ نے بسم اللہ کی تلاوت شروع کی اور رو پڑے یہاں تک کہ روتے روتے گر گئے۔پھر میں مرتبہ بسم اللہ پڑھی ہر دفعہ آپ روتے روتے گر پڑتے۔آخر میں مجھے فرمانے لگے وہ شخص بہت ہی نامراد ہے جس پر رحمن اور رحیم خدا بھی رحم نہ کرے۔(ابن الجوزی) 38 رسول اللہ یہ بھی روتے روتے خدا کے حضور عرض کرتے۔”اے اللہ مجھے آنسو بہانے والی آنکھیں عطا کر جو تیری خشیت میں آنسوؤں کے بہنے سے دل کو ٹھنڈا کردیں، پہلے اس سے کہ آنسو خون اور پتھر انگارے بن جائیں۔(طبرانی) 39 قصہ مختصر اس فانی فی اللہ کی خشیت اور خوف الہی سے لبریز اندھیری راتوں کی یہی دلدوز چیخ و پکار اور دعائیں ہی تو تھیں جنہوں نے عرش اٹھی کو ہلا کر رکھ دیا اور ایک دفعہ سرزمین عرب میں ایک ایسا انقلاب عظیم پیدا ہوا کہ پہلے اس سے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا۔