اسوہء انسانِ کامل — Page 574
574 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی اور قناعت اسوہ انسان کامل فرماتے تھے۔سواری کے پیچھے کسی کو بٹھانے میں عار محسوس نہ کرتے تھے۔یہ آپ کی کمال سادگی تھی۔شہر مدینہ کے لوگوں نے بہت دفعہ یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رسول خدا خچر یا اونٹ پر سوار ہیں اور کبھی بزرگ صحابہ میں سے حضرت ابوبکر آپ کے پیچھے بیٹھے ہیں تو کبھی حضرت عثمان بھی حضرت علی تو کبھی زید بن حارثہ بچوں میں سے حسن وحسین، اسامه بن زید اور انس بن مالک بڑوں میں سے ابو داؤد، ابوطلحہ، ابوھریرہ۔نوجوان صحابہ میں سے معاذ بن جبل اور جابر بن عبداللہ عورتوں میں سے کبھی ازواج مطہرات اونٹنی پر ساتھ سوار ہیں۔ایک دفعہ آپ خزرج کے سردار سعد بن عبادہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے انہوں نے از راہ ادب واپسی پر اپنی سواری دی اور اپنے بیٹے قیس کو ساتھ کر دیا کہ حضور کو چھوڑ آؤ۔حضور نے قیس سے فرمایا کہ اپنی سواری کے آگے تم بیٹھو۔انہوں نے از راہ ادب کچھ پس و پیش کی تو حضور نے بے تکلفی سے فرمایا کہ یا تو سواری کے آگے بیٹھو یا پھر واپس چلے جاؤ۔(ابوداؤد ) 29 آپ کی سواری کا پالان اور گدیلا بھی نہایت سادہ ہوتا تھا۔حجتہ الوداع آپ کی زندگی کا آخری حج تھا۔اس سے پہلے خیبر، مکہ چنین وغیرہ کی زبردست فتوحات آپ حاصل کر چکے تھے۔آپ چاہتے تو بہتر سے بہتر چیز استعمال میں لا سکتے تھے۔مگر اس وقت دنیا نے یہ عجیب نظارہ دیکھا کہ آپ ایک اونٹ پر سوار تھے۔جس کا پالان بوسیدہ ہو چلا تھا۔حج کے موقع پر نہایت انکساری سے آپ یہ دعا کر رہے تھے۔”اے اللہ ! یہ حج قبول کرنا، اسے ایسا مقبول حج بنانا جس میں ریا ہو نہ شہرت کی کوئی غرض۔( ابن ماجہ ) 30 حج کے دوران اپنے لئے کوئی امتیازی سلوک پسند نہ فرمایا۔آپ کے لئے منی میں آرام کی خاطر الگ خیمہ لگانے کی خواہش کی گئی تو فرمایا کہ مٹی میں جو پہلے پہنچ جائے پڑاؤ کا پہلا حق اسی کا ہے۔(ابن ماجہ ) 31 بے تکلفی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دوستوں سے بھی بے تکلفی کا معاملہ فرماتے تھے۔ایک دفعہ آپ کو ایرانی ہمسائے نے دعوت پر بلایا۔آپ نے بلا تکلف فرمایا کہ کیا میری اہلیہ عائشہ کو بھی ساتھ دعوت ہے؟ اس نے کہا ”نہیں“ آپ نے فرمایا پھر میں بھی نہیں آتا۔دو تین دفعہ کے تکرار کے بعد ایرانی نے آکر کہا کہ ٹھیک ہے حضرت عائشہ بھی آجائیں۔تب نبی کریم اور حضرت عائشہؓ خوش خوش اس کے گھر کی طرف چلے۔( احمد ) 32 آنحضور اپنی پسند کا بلا تکلف اظہار فرما دیتے تھے۔جابر بن عبداللہ کی روایت ہے آنحضور ایک انصاری شخص کے ہاں تشریف لے گئے وہ اپنے باغ میں پانی لے جار ہا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اگر رات سے مشکیزہ میں پڑا ٹھنڈا پانی ہو تو لے آؤؤر نہ ہم اسی مشکیزہ سے پانی پی لیتے ہیں۔انہوں نے کہا ”حضور ”ہمارے پاس رات کے مشکیزے کا (ٹھنڈا ) پانی موجود ہے۔پھر ہم ان کے ڈیرے کی طرف چل پڑے جہاں اس انصاری نے بکری کا دودھ اس مشکیزے کے ٹھنڈے پانی میں ملا کر پیش کیا اور حضور اور آپ کے ساتھیوں کو پلایا۔(ابن ماجہ )33