اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 525 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 525

525 رسول کریم کا عدیم المثال عفو و کرم اسوہ انسان کامل رسول اللہ کے حسنِ اخلاق سے متاثر ہو کر اس کی ہستی میں ایک انقلاب رونما ہو چکا تھا۔اس نے عرض کیا اے خدا کے رسول ! میرے لئے اپنے مولیٰ سے بخشش کی دعا کیجئے کہ جو دشمنی میں نے آج تک آپ سے کی وہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف کر دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی وقت دعا کیلئے خدا کے حضور ہاتھ پھیلا دیئے اور عرض کرنے لگے۔”مولیٰ میرے مولیٰ ! عکرمہ کی سب عداوتیں اور قصور معاف فرمادے اور خود آپ نے بھی صدق دل سے عکرمہ کو ایسا معاف کیا کہ مسلمانوں کو تاکید کی کہ دیکھو عکرمہ کے سامنے اس کے باپ ابو جہل کو برا بھلا نہ کہنا۔اس سے میرے ساتھی عکرمہ کی دل آزاری ہوگی اور اسے تکلیف پہنچے گی۔دشمن کے ساتھ حسن سلوک کے لحاظ سے نبی کریم کا کتنا عظیم خلق ہے جس کی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی۔عکرمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے آج تک آپ کی مخالفت میں اپنا جتنا مال خرچ کیا ہے۔اب میں اللہ کی راہ میں بھی اتنا مال خرچ کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔( ابن اثیر ) 21 ہند سے حسن سلوک ان واجب القتل مجرموں میں ابوسفیان کی بیوی ھند بنت عتبہ بھی تھی۔اس نے اسلام کے خلاف جنگوں کے دوران کفار قریش کو اکسانے اور بھڑ کانے کا فریضہ خوب ادا کیا تھا۔وہ رجزیہ اشعار پڑھ کر اپنے مردوں کو انگیخت کیا کرتی تھی کہ اگر تم فتح مند ہو کر لوٹو گے تو ہم تمہارا استقبال کریں گی ، ورنہ ہمشیہ کیلئے جدائی اختیار کرلیں گی۔(ابن ہشام) 22 جنگ اُحد میں اسی ہند نے انعام کے لالچ پے اپنے غلام وحشی سے رسول اللہ ﷺ کے چا حضرت حمزہ کو قتل کروا کے انکی نعش کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا تھا۔ان کے ناک کان اور دیگر اعضاء کاٹ کر لاش کا حلیہ بگاڑا اور ان کا کلیجہ چبا کر آتش انتقام سرد کی تھی۔فتح مکہ کے بعد جب رسول اللہ نے عورتوں کی بیعت لی تو یہ ھند بھی نقاب اوڑھ کر آگئی کیونکہ اس کے جرائم کی وجہ سے اسے بھی واجب القتل قرار دیا گیا تھا۔بیعت کے دوران اس نے بعض شرائط بیعت کے بارہ میں استفسار کیا تو نبی کریم پہچان گئے کہ ایسی دیدہ دلیری ہند ہی کر سکتی ہے۔آپ نے پوچھا ” کیا تم ابوسفیان کی بیوی ہند ہو؟“ اس نے کہا یا رسول اللہ ! اب تو میں دل سے مسلمان ہو چکی ہوں۔جو کچھ پہلے گزر چکا آپ سبھی اس سے در گذر فرمائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک فرمائے گا۔“ نفرت کو محبت سے بدلنے کا انقلاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظرف دیکھو کہ اپنے محبوب چا کا کلیجہ چبانے والی ھند کو بھی معاف فرما کر ہمیشہ کیلئے اس کا دل جیت لیا۔ہند پر آپ کے عفو و کرم کا ایسا اثر ہوا کہ اس کی کایا ہی پلٹ گئی۔اس نے اپنا دل بھی شرک و بت پرستی سے پاک کیا اور گھر میں موجود تمام بت توڑ کر نکال باہر کئے۔اسی شام ہند نے رسول اللہ یہ کے لئے ضیافت کے اہتمام کی خاطر دو بکرے ذبح کر وائے اور بھون کر حضور کی خدمت میں بھجوائے۔خادمہ کے ہاتھ پیغام بھجوایا کہ ہند بہت معذرت کرتی ہیں کہ آج کل جانور کم ہیں اس لئے جو حقیر سا تحفہ پیش کرنے کی توفیق پارہی ہوں یہی قبول فرما لیں۔