اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 519 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 519

اسوہ انسان کامل 519 رسول کریم کا عدیم المثال عفو و کرم رسول کریم کا عدیم المثال عفو و کرم 66w بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم صفات الہیہ کو اخلاق فاضلہ کی بنیاد قرار دیتے اور حسب استطاعت یہ صفات اختیار کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔اللہ تعالی کی ایک صفت عفو " ہے یعنی وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔انسان کے لئے بھی یہ خُلق اختیار کرنا ضروری ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کی اس صفت میں رنگین ہو کر وہ ایک کامل انسان بن سکے۔اسلام سے پہلے توریت میں قصاص اور برابر کے بدلہ کی تعلیم بھی عدل وانصاف پر مبنی تھی۔اسلام نے عدل سے ایک قدم آگے بڑھ کر احسان کی تعلیم دیتے ہوئے عفو کی طرف توجہ دلائی، مگر ساتھ ہی یہ وضاحت فرمائی کہ عفو “ کا خلق اس وقت قابل تعریف ہے، جب برمحل ہو۔اگر کمزوری اور بدلہ لینے کی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے معاف کیا جائے تو یہ عفو قابل تعریف نہیں۔عفو وہ قابل تعریف ہے، جس کے نتیجہ میں اصلاح ہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔بدی کا بدلہ کی جانے والی بدی کے برابر ہوتا ہے پس جو کوئی معاف کرے بشرطیکہ وہ اصلاح کرنے والا ہو تو اس کا اجر اللہ پر ہے یقیناً وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ہے۔“ (سورۃ الشوری: 41) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جو حدود یعنی بعض گناہوں کی سزائیں مقرر فرما دی ہیں ان میں انسان کو عفو کا حق نہیں دیا اسی لئے رسول کریم نے فرمایا کہ لوگوں کو ان کی لغزشیں معاف کر دیا کرو سوائے حدود کے (جیسے قتل، زنا، چوری کی سزا)۔(ابوداؤد) رسول کریم کو بطور خاص عفو کا خُلق ودیعت کیا گیا تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ آپ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اللہ کی خاص رحمت کی وجہ سے تو اُن کیلئے نرم ہو گیا اور اگر تو تند خو اور سخت دل ہوتا تو وہ ضرور تیرے گرد سے دور بھاگ جاتے۔پس ان سے عفوا ور در گذر کر اور ان کے لئے بخشش کی دعا کر۔(سورۃ آل عمران: 160 ) دوسری جگہ رسول کریم کو عفو سے اگلے مقام صفحہ کی تعلیم دی ہے۔جس کے معنے ایسی معافی کے ہیں کہ دل میں بھی کوئی خلش یا تلخ یاد باقی نہ رہے اور صدق دل سے مکمل طور پر معاف کر دیا جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ان کو معاف کر اور در گذر کر۔اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔“ (سورۃ المائدہ:14) پھر فرمایا که در گذر کرو خوبصورت در گذر (سورۃ الحجر : 86) چنانچہ رسول کریم نے غصہ دبانے اور معاف کرنے کے لئے بہت اعلی تعلیم پیش فرمائی ہے۔آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کی رضاء کی خاطر غصے کا ایک گھونٹ پی لینے کا جتنا اجر ہے وہ دوسرے کسی بھی گھونٹ کا نہیں۔(احمد) 2