اسوہء انسانِ کامل — Page 475
475 نبی کریم کا حسن معاشرت بحیثیت دوست و پڑوسی اسوہ انسان کامل رکھتا ہے کہ اس کے اہل یا مال کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے تو وہ مومن نہیں ہے اور وہ بھی مومن نہیں جس کا ہمسایہ اس کے شر سے محفوظ نہیں۔جانتے ہو ہمسائے کا حق کیا ہے؟ جب پڑوسی کوئی مدد طلب کرے تو اس کی مدد کر و۔جب وہ قرض مانگے تو اسے قرض دو۔جب اسے کوئی حاجت ہو تو وہ پوری کرو۔جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو۔جب اسے کوئی خوشی پہنچے تو مبارک باد دو۔جب اسے کوئی رنج پہنچے تو اس سے تعزیت کرو۔جب اس کی وفات ہو تو جنازہ میں شامل ہو۔اپنے مکان کی دیوار میں اتنی اونچی نہ کرو کہ ہمسائے کی ہوا رک جائے۔ہاں اس کی رضامندی سے ایسا کر سکتے ہو۔اپنی ہنڈیا کی خوشبو سے اس کا دل نہ دکھاؤ بلکہ اسے بھی کچھ سالن بھجوا دو۔اگر پھل خرید و تو اس میں سے بھی تحفہ بھجواؤ۔نہیں دے سکتے تو پھر گھر میں خاموشی سے وہ پھل لے جاؤ تمہارے بچے وہ پھل لے کر باہر نہ جائیں مبادا اس کے بچوں کی دلآزاری ہو۔(منذری )31 رسول کریم نے اپنے نمونہ سے ہمیں یہ سبق دیا کہ اگر کوئی شخص ہمسائے کا حق ادا نہیں کرتا تو پورے معاشرہ کو اس مظلوم کے حق میں جہاد کرنا چاہئے۔چنانچہ ایک دفعہ ایک شخص رسول کریم کی خدمت میں اپنے پڑوسی کی شکایت لے کر حاضر ہوا پہلے تو آپ نے فرمایا صبر کرو۔وہ دوسری دفعہ آیا تو بھی آپ نے صبر کی تلقین فرمائی۔تیسری مرتبہ اس کا پیمانہ صبر لبریز دیکھ کر رسول کریم ﷺ نے اس کے ہمسائے کی اصلاح کا عمدہ طریق تجویز کیا۔آپ نے اس مظلوم ہمسائے کو فرمایا کہ اپنے گھر کا سامان نکال کر باہر رکھ دو۔اس نے ایسا ہی کیا۔لوگوں کے پوچھنے پر وہ انہیں بتاتا کہ ہمسایہ زیادتی کرتا ہے۔تمام لوگ اس ظالم ہمسائے کو لعنت ملامت کرنے لگے۔یہاں تک کہ وہ تنگ آکر رسول کریم نے کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ لوگوں نے مجھ پر لعنت ملامت کی حد کر دی ہے۔آپ نے فرمایا کہ اللہ اس سے پہلے تم پر لعنت کر چکا ہے۔وہ معافی کا طلبگار ہوا کہ اب ہمسائے کو تنگ نہیں کرونگا۔پھر اپنے ہمسائے سے بھی عہد کیا اور کہا کہ آئندہ تمہیں مجھ سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔اس پر رسول کریم نے بھی دوسرے ہمسائے سے فرمایا ٹھیک ہے اب سامان اندر رکھ لو۔اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔آپ نے فرمایا کہ وہ شخص مومن نہیں ہے جو خود تو سیر ہو کر کھا لیتا ہے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہتا ہے۔( منذری )32 رسول کریم اپنے ہمسایوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔آپ کے ہمسایوں میں مسجد نبوی کے وہ فاقہ کش درویش بھی تھے۔جو مسجد کے ایک چبوترے پر بسیرا رکھتے اور اصحاب صفہ کہلاتے تھے۔حضرت ابوھریرہ کا بھی ان میں سے تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم نے میرے چہرہ سے بھوک کے آثار محسوس کئے۔مجھے اپنے ہمراہ گھر لے گئے۔آپ کو دودھ کا ایک پیالہ مل گیا۔مجھے فرمایا کہ جاؤ اصحاب صفہ کو بلا لاؤ۔ابو ہریرہ کہتے ہیں یہ وہ لوگ تھے جن کا اپنا کوئی گھر بار نہ تھا۔رسول کریم کے پاس جب بھی صدقہ آتا تو انہیں عطا فرماے یا کوئی تحفہ آتا تو انہیں ضرور اس میں شریک کرتے۔یہ گویا مسلمانوں کے مستقل مہمان تھے۔( ھیثمی )33 ابو ہریرہ کو ان سب کو بلاتے ہوئے یہ فکر دامنگیر تھی کہ دودھ کا ایک پیالہ ان سب کو کیسے کفایت کرے گا ؟ مگر اللہ