اسوہء انسانِ کامل — Page 465
465 طبقہ نسواں پر رسول کریم کے احسانات اسوہ انسان کامل نبی کریم نے عورتوں کو معاشرتی دھارے میں برابر شریک کیا۔عیدین کے موقع پر تمام مردوں عورتوں بالغ بچیوں تک کو ان اسلامی تہواروں میں شریک کرنے کی ہدایت کی اور فرمایا کہ اگر کسی لڑکی کے پاس پر دہ کیلئے چادر نہ ہو تو وہ اپنی بہن سے مانگ لے اسی طرح وہ عورتیں بھی جنہوں نے ایام مخصوصہ کی وجہ سے نماز نہیں پڑھنی اجتماع عید میں ضرور شامل ہوں تا کہ دعا میں شریک ہو جائیں۔( بخاری )12 نبی کریم ماں بیٹی اور بہن اور بیوی کے طور پر عورت کی ایسی عزت اور احترام قائم کیا کہ تاریخ میں پہلے اس کی مثال نہیں ملتی۔آپ نے فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔(نسائی) 13 بیٹیاں زندہ درگور کرنے والوں کو آپ نے ان کی پرورش کرنے پر جنت کی بشارت دی۔آپ کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں تو آپ احترام میں کھڑے ہو جاتے۔بیوی کی عزت اور احترام بھی آپ نے قائم کیا اور اسے گھر کی ملکہ بنایا۔فرماتے تھے کہ ”سب سے بہترین لوگ وہ ہیں جو عورتوں سے حسن سلوک کرتے ہیں اور میں تم میں عورتوں سے سلوک میں سب سے بہتر ہوں۔“ عورتوں کے احترام اور ان کی نزاکت کا آپ کو بہت خیال تھا۔ایک سفر میں آپ کی بیویاں اونٹوں پر سوار تھیں کہ حدی خواں انجشہ نامی نے اونٹوں کو تیز ہانکنا شروع کر دیا۔آنحضرت یہ فرمانے لگے اے انجعہ۔تیرا بھلا ہو ذرا آہستہ! دیکھتے نہیں یہ نازک شیشے ہمراہ ہیں۔ان آبگینوں کو ٹھیس نہ پہنچے۔یہ شیشے ٹوٹنے نہ پائیں اونٹوں کو آہستہ ہانکو “ اس واقعہ کے ایک راوی ابو قلابہ بیان کیا کرتے تھے کہ دیکھو رسول کریم ﷺ نے عورتوں کی نزاکت کا لحاظ کرتے ہوئے ان کو شیشے کہا۔یہ محاورہ اگر کوئی اور استعمال کرتا تو تم لوگ عورتوں کے ایسے خیر خواہ کو کب جینے دیتے ضرور اسے ملامت کرتے۔(مسلم ) 14 عورت کے حقوق بلا شبہ رسول کریم ﷺ کا ہی حوصلہ تھا کہ اس صنف نازک کے حق میں آپ نے اس وقت نعرہ بلند کیا جب سارا معاشرہ اس کا مخالف تھا۔حقیقت یہ ہے کہ مرد ہو کر عورتوں کے حقوق کے سب سے بڑے علمبر دار ہونے کی منفر د مثال صرف اور صرف ہمارے نبی ﷺ کی ہے جو ہمیشہ تاریخ میں سنہری حروف میں لکھی جاتی رہے گی۔وہ معاشرہ جس میں عورت کا کوئی حق نہیں سمجھا جاتا تھا اور ان سے گھر کی خادماؤں اور لونڈیوں سے بھی بدتر سلوک ہوتا تھا۔نبی کریم نے اسے گھر کی ملکہ بنادیا اور فرمایا عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے۔اور اس سے اس ذمہ داری کے بارہ میں پوچھا جائے گا۔اسلامی شریعت میں اللہ کر مثل حظ الانثین کا اعلان کر کے عورت کو اس کی ذمہ داری کے مطابق ورثہ کا حق دی گیا کہ وہ بطور ماں ، بیٹی اور بیوی جائیداد کی وارث ہوگی جبکہ اس سے قبل بڑا بیٹا ہی ساری جائیداد کا مالک ہوتا تھا۔بانی اسلام نے عورت کو بھی مردوں کی طرح ذاتی ملکیت رکھنے کا پورا حق عطا فر مایا۔اور حق ورثہ اور حق مہر کے اموال اس کے تصرف میں دینے کی ہدایت فرمائی۔آپ نے شادی کے بارہ میں عورت کی پسند کا حق بھی