اسوہء انسانِ کامل — Page 457
457 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ اسوہ انسان کامل نتیجہ میں مجھے نکسیر پھوٹ پڑی۔رسول کریم و فرمانے لگے اے ابو بکڑ ا ہم نے تجھے اس لئے تو نہیں بلایا تھا۔حضرت ابو بکڑ نے ایک کھجور کی چھڑی لی اور مجھے مارنے کو دوڑے۔میں آگے آگے بھاگی اور جا کر رسول اللہ سے چمٹ گئی۔رسول کریم نے حضرت ابو بکر سے کہا میں آپ کو قسم دے کر کہتا ہوں کہ اب آپ چلے جائیں۔ہم نے آپ کو اس لئے نہیں بلایا تھا۔جب وہ چلے گئے تو میں رسول اللہ سے الگ ہو کر ایک طرف جابیٹھی۔آپ فرمانے لگے عائشہ میرے قریب آجاؤ۔میں نہیں گئی تو آپ نے مسکرا کر فرمایا ابھی تھوڑی دیر پہلے تو تم نے میری کمر کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا اور خوب مجھ سے چھٹی ہوئی تھیں۔“ (السمط ) 59 انداز الفت حضرت عائشہ کے تو آپ بہت ہی ناز اٹھاتے تھے ایک دفعہ ان سے فرمانے لگے کہ عائشہ میں تمہاری ناراضگی اور خوشی کو خوب پہچانتا ہوں۔حضرت عائشہؓ نے عرض کیا وہ کیسے؟ فرمایا جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو اپنی گفتگو میں رب محمد کہ کر تم کھاتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو تو رب ابراہیم کہ کر بات کرتی ہو۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ہاں یا رسول اللہ یہ تو ٹھیک ہے مگر بس میں صرف زبان سے ہی آپ کا نام چھوڑتی ہوں۔( دل سے تو آپ کی محبت نہیں جاسکتی) ( بخاری )60 حضور ﷺ کی بیوی حفصہ بنت عمر کچھ تیز طبیعت تھیں۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ کی بیوی نے ان کو کوئی مشورہ دینا چاہا تو آپ سخت خفا ہوئے کہ مردوں کے معاملات میں عورتوں کی مداخلت کے کیا معنی؟ تب آپ کی بیوی کہنے لگیں کہ آپ کی اپنی بیٹی حفصہ تو رسول اللہ کے آگے بولتی ہے اور ان کو جواب دیتی ہے۔یہاں تک کہ بعض دفعہ رسول کریم ﷺ سارا سارا دن ان سے ناراض رہتے ہیں۔حضرت عمر فوراً اپنی بیٹی کے گھر پہنچے اور ان سے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے کہ تمہارے آگے سے بولنے کی وجہ سے رسول الله له بعض دفعہ سارا دن ناراض رہتے ہیں۔انہوں نے عرض کیا کہ ہاں بعض دفعہ ایسا ہو جاتا ہے۔آپ نے فرمایا یا درکھو عائشہ کی ریس کرتے ہوئے تم کسی دن اپنا نقصان نہ کر لینا۔پھر یہی نصیحت حضور کی ایک اور بیوی حضرت ام سلمہ کو بھی کرنے گئے۔وہ بھی آخر حضرت عمرؓ کی رشتہ دار تھیں فرمانے لگیں۔اے عمر اب رسول اللہ کے گھریلو معاملات میں بھی تم مداخلت کرنے لگے۔کیا اس کے لئے خود رسول اللہ کافی نہیں ہیں۔حضرت عمر فرماتے ہیں میں خاموش ہو کر واپس لوٹا یہ واقعہ جب آنحضرت مہ کو سنایا تو آپ خوب محظوظ ہوئے۔(بخاری)61 جائز سرزنش ان شفقتوں کے باوجود اگر کبھی بیویوں کی طرف سے عدل سے ہٹی ہوئی کوئی بات سرزد ہوتی تو آپ سختی سے اس کا نوٹس بھی لیتے اور مناسب فیصلہ بھی فرماتے۔ہر چند کہ حضرت عائشہ آپ کو بہت محبوب تھیں ایک دفعہ انہوں نے حضرت صفیہ کو اپنی چھوٹی انگلی دکھا کر ان کے پست قد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ٹھگنی ( چھوٹے قد والی ) کا طعنہ