اسوہء انسانِ کامل — Page 454
اسوہ انسان کامل 454 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ اٹھتے اور عبادت کرتے تھے جب طلوع فجر میں تھوڑا سا وقت باقی رہ جاتا تو مجھے بھی جگاتے اور فرماتے تم بھی دور کعت ادا کرلو۔( بخاری )49 اسی طرح آپ فرماتی ہیں کہ رمضان کے آخری عشرہ میں تو بطور خاص آپ خود بھی کمر ہمت کس لیتے اور بیویوں کو بھی اہتمام کے ساتھ عبادت کے لئے جگاتے تھے۔(بخاری) 50 ایک رات کا ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ نماز تہجد کے لئے اٹھے ہوئے تھے وحی الہی کے ذریعہ سے آپ کو آئندہ کے احوال اور فتنوں کے کچھ خبریں بتائی گئی ہیں جس کے بعد ایک پریشانی اور گھبراہٹ کے عالم میں آپ بیویوں کو نماز اور دعا کے لئے جگانے لگے اور فرمایا ان حجروں میں سونے والیوں کو جگاؤ۔اور پھر اس نصیحت کو مزید اثر انگیز بنانے کے لئے ایک عجیب پر حکمت جملہ فرمایا جو پوری زندگی میں انقلاب پیدا کرنے کے لئے کافی ہے۔فرمایا:۔دنیا میں کتنی ہی عورتیں ہیں جو ظاہری لباسوں کے لحاظ سے بہت خوش پوش ہیں مگر قیامت کے دن جب یہ لباس کام نہ آئیں گے اور صرف تقویٰ کی ضرورت ہوگی تو وہ اس لباس سے عاری ہوں گی۔‘( بخاری )51 با جماعت نماز ایک دفعہ حضرت ام سلمہ کے گھر میں کچھ عورتیں جمع تھیں۔رسول کریم نے دیکھا کہ سب اکیلی اکیلی نماز پڑھ رہی ہیں۔اُم سلمہ کو فرمایا تم نے ان کو نماز با جماعت کیوں نہ پڑھا دی ؟ ام سلمہ نے پوچھا کیا یہ جائز ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں جب تم زیادہ عورتیں ہو تو ایک درمیان میں کھڑی ہو کر امامت کروالیا کرے۔اس طرح آپ نے نماز با جماعت اور عبادت الہی کا شوق ان میں پیدا کیا۔( مجموع) 52 محبت الہی کے نرالے انداز اللہ کی یاد اور اس کی صفات کا تذکرہ تو اکثر ہی گھر میں رہتا تھا۔عجب ڈھنگ اور نرالے انداز سے آپ اہل خانہ کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کی عبادت کا شوق پیدا فرماتے تھے۔ایک مرتبہ حضرت عائشہ سے فرمانے لگے۔مجھے اللہ کی ایک ایسی صفت کا علم ہے جس کا نام لے کر دعا کی جائے تو ضرور قبول ہوتی ہے۔حضرت عائشہ نے وفور شوق سے عرض کیا حضور پھر مجھے بھی وہ صفت بتائیے نا۔آنحضور ﷺ نے فرمایا میرے خیال میں تمہیں بتانا مناسب نہیں۔حضرت عائشہ جیسے روٹھ کر ایک طرف جا بیٹھیں کہ خود ہی بتائیں گے مگر جب آنحضرت نے کچھ دیر تک نہ بتایا تو عجب شوق کے عالم میں خو دانھیں رسول کریم کے پاس آکر کھڑی ہو گئیں۔آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ بس مجھے ضرور وہ صفت بتائیں۔آنحضرت نے فرمایا کہ عائشہ بات دراصل یہ ہے کہ اس صفت کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے دنیا کی کوئی چیز مانگنا درست نہیں اس لئے میں بتانا نہیں چاہتا۔تب حضرت عائشہ پھر روٹھ کر الگ ہو جاتی ہیں کہ اچھا نہ تو نہ سہی۔پھر آپ وضو کر کے مصلیٰ بچھاتی ہیں اور حضور کو سنا سنا کر بآواز بلند یہ دعا کرتی ہیں کہ اے میرے مولیٰ !