اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 446 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 446

446 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ اسوہ انسان کامل کی کوئی تمنا نہیں صرف اتنی خواہش ہے کہ قیامت کے روز آپ کی بیویوں میں میرا حشر ہو۔آپ سے علیحدگی نہیں چاہتی تا ہم اپنے حقوق حضرت عائشہ کے حق میں چھوڑتی ہوں بے شک میری باری ان کو دے دی جائے۔نبی کریم ﷺ نے ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ان کی یہ تجویز قبول فرمالی، مگر ان کے جملہ اخراجات وغیرہ حسب سابق ادا ہوتے رہے۔(زرقانی) 20 مدنی دور میں آنحضرت مے کو تربیتی و قومی ضروریات کی بنا پر متعد د شادیاں کرنی پڑیں اور بیک وقت نو بیویاں تک آپ متے کے گھر میں رہیں مگر کبھی ان کی ذمہ داریوں سے گھبرائے نہیں بلکہ نہایت حسن انتظام اور کمال اعتدال اور عدل وانصاف کے ساتھ سب کے حقوق ادا کئے اور سب کا خیال رکھا۔آپ نماز عصر کے بعد سب بیویوں کواس بیوی کے گھر میں اکٹھا کر لیتے جہاں آپ کی باری ہوتی تھی۔یوں سب سے روزانہ اجتماعی ملاقات ہو جاتی تھی۔ہر چند کہ آٹھ دن کے بعد ایک بیوی کی باری آتی تھی۔مگر آنحضرت کی محبت و شفقت ایسی غالب تھی کہ ہر بیوی کو آپ کی رفاقت پر ناز تھا۔وہ ہر حال میں رسول خدا کے ساتھ راضی اور خوش رہتی تھیں۔ان نو بیویوں میں سے کبھی کسی بیوی نے علیحدگی کا مطالبہ نہیں کیا۔کبھی کوئی ناراض ہو کر آپ سے عارضی طور پر بھی جدا نہیں ہوئی۔فتوحات وغنائم کے دور میں بیویوں کے بعض دنیوی مطالبات کے جواب میں جب سورۃ احزاب کی آیت تخییر اتری جس میں بیویوں کو مال و دولت اور اپنے حقوق لے کر رسول کریم ﷺ سے علیحدہ ہو جانے کا اختیار دیا گیا اور ارشاد ہوا کہ يأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيوةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعُكُنَّ وَ أُسَرِحُكُنَّ سَرَاحَاً جميلا ( الاحزاب (29) یعنی اے ازواج ! اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی خواہاں ہو تو آؤ میں تمہیں دنیوی متاع دیگر جدا کر کے عمدگی سے رخصت کر دیتا ہوں۔اور اگر اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرنا چاہتی ہو تو ایسی نیک عورتوں کے لیے اللہ نے بڑا اجر مقرر کر چھوڑا ہے۔اس حکم کے نازل ہونے پر رسول کریم ﷺ نے باری باری سب بیویوں سے ان کی مرضی پوچھی کہ وہ حضور کے ساتھ فقر و غربت میں گزارہ کرنا پسند کرتی ہیں یا جدائی چاہتی ہیں تو سب بیویوں نے بلا توقف یہی مرضی ظاہر کی کہ وہ کسی حال میں بھی رسول خدا کو چھوڑ نا گوارا نہیں کرتیں۔سب سے پہلے جب آنحضرت نے حضرت عائشہ کو یہ اختیار دے کران کی رائے لینا چاہی تو اس خیال سے کہ نوعمر ہیں کہیں عجلت سے کوئی غلط فیصلہ نہ کر بیٹھیں۔یہ نصیحت بھی فرمائی کہ اے عائشہ ایک نہایت اہم اور نازک معاملے میں تمہیں حسب حکم الہی جو اختیار دینے والا ہوں اس کے بارے میں فیصلہ سوچ سمجھ کر اور والدین سے مشورہ کے بعد کرنا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا خود بے شک نو عمر تھیں مگر ان کا جواب کیسا کہنہ مشق اور کیا خوب تھا کہ یا رسول اللہ میں کس بارے میں اپنے ماں باپ سے مشورہ کروں گی ؟ کیا خدا کے رسول سے جدائی اختیار کرنے کے بارے میں صلاح کروں گی؟ حضرت عائشہ بڑے ناز سے فرمایا کرتی تھیں کہ شاید رسول اللہ نے مجھے ماں باپ سے مشورہ کرنے کو اس لئے کہا تھا کہ آپ جانتے تھے کہ میرے والدین مجھے ہرگز رسول خدا سے جدا ہونے کا