اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 418 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 418

اسوہ انسان کامل 418 رسول کریم بحیثیت منصف اعظم رسول کریم بحیثیت منصف اعظم ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کو قرآن کریم کی صورت میں ایک کامل دائی آخری شریعت عطا کی گئی۔آپ نے اس قانون الہی کے نافذ کرنے کا نمونہ بھی دکھانا تھا اس لئے آپ کو حکومت بھی عطا کی گئی۔بعثت نبوت کے ساتھ ہی مسلمانوں کے واجب الاطاعت امام اور لیڈر کی حیثیت آپ کو حاصل ہوگئی تھی۔اس لحاظ سے مختلف النوع فیصلوں کی اہم ذمہ داری بھی آپ پر عائد ہوتی تھی، قرآنی شریعت میں کامل عدل کی وہ جامع تعلیم آپ کو عطا کی گئی، جس پر آئندہ عالمی امن کی عمارت تعمیر ہونے والی تھی۔مگر الہی تقدیر کے مطابق اس کا آغاز سرزمین عرب سے کیا گیا، جہاں ہر قسم کی بے اعتدالی اور ظلم و تعدی دستور بن چکے تھے۔آپ ہی وہ منصف مزاج وجود ہیں جنہوں نے ظلم و ستم سے بھرے اس جزیرے کو عدل و انصاف کا گہوارہ بنا کر دنیا کو ایک نمونہ دیا۔رسول اللہ کی بعثت کے وقت ہر کمزور طبقہ ظلم کی چکی میں پس رہا تھا۔آپ نے آکر عورتوں کو بھی اس ظلم سے رہائی دلائی اور مقہور غلاموں کو بھی ان کے حقوق دلائے۔معاشرے کی ناہمواری دُور کی اور معاشی اور معاشرتی طور پر بھی عدل قائم کر کے دکھایا کیونکہ یہی آپ کی بعثت کا بنیادی مقصد تھا۔آپ کے ذریعہ یہ اعلان کروایا گیا کہ ” میں قیام عدل کی خاطر مامور کیا گیا ہوں۔“ ( سورة الشورى: 16) یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ کا فیصلہ آخری اور اسے بخوشی قبول کرنا ہر مومن کے لئے واجب التسلیم ہے۔(سورۃ النساء: 66 ) آپ نے یہ تعلیم دی کہ اللہ تو عدل سے بھی آگے یہ حکم دیتا ہے کہ احسان اور زائد نیکی کرنے والے بنو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اس نیکی کا درجہ حاصل کرو جوخونی رشتہ داروں سے کی جاتی ہے۔‘“ (سورۃ النحل: 91) اسلامی تعلیم عدل قرآن شریف نے مذہبی معاشرتی اور معاشی ہر پہلو سے عدل کے قیام کی تفصیلی تعلیم دی ہے۔اس مضمون میں بے پناہ وسعت کے پیش نظر اس جگہ اہم نکات کی طرف اشارہ ہی کیا جاسکتا ہے۔1 خدائے واحد کے ساتھ شریک ٹھہرانا خلاف عدل ہے اور یہ عدل کا مذہبی ودینی پہلو ہے۔معاشرتی عدل کا تقاضا ہے کہ والدین کے احسانات کے جواب میں کم از کم ان سے احسان کا سلوک جائے۔( سورۃ الانعام : 152 ، سورۃ الرحمان: 61) اولاد کے حقوق بھی عدل کے ساتھ ادا کئے جائیں۔بالغ ہونے تک انکے ذمہ دار والدین ہیں۔