اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 410 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 410

اسوہ انسان کامل 410 جنگوں میں رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی جواب ہے جو میں پہلے دے چکا ہوں۔تیسرے روز رسول اللہ نے پھر اس سے وہی سوال پوچھا وہ کہنے لگا کہ میں جواب دے چکا ہوں۔آپ نے ارشاد فرمایا کہ بغیر کسی معاوضہ کے اسے آزاد کر دیا جائے۔ثمامہ رسول اللہ کے حسن سلوک، مسلمانوں کی پنجوقتہ عبادت، اطاعت اور وحدت کے نظارے دیکھ کر اس قدر متاثر ہو چکا تھا کہ آزاد ہوتے ہی قریب کے نخلستان میں گیا، غسل کر کے واپس مسجد نبوی میں آیا اور کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔پھر کہنے لگا "اے محمد ! آپ کا چہرہ روئے زمین پر میرے لئے سب سے زیادہ قابل نفرت تھا مگر آج آپ مجھے دنیا میں سب سے پیارے ہیں۔خدا کی قسم کوئی مذہب مجھے آپ کے مذہب سے زیادہ نا پسندیدہ نہ تھا مگر آج آپ کا دین اسلام مجھے تمام دینوں سے زیادہ پیارا ہو چکا ہے۔خدا کی قسم کوئی شہر آپ کے شہر سے زیادہ میرے لئے قابل نفرت نہ تھا۔مگر آج آپ کا شہر مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو چکا ہے۔آپ کے دستہ نے جب مجھے گرفتار کیا تو میں عمرہ کے ارادہ سے جار ہا تھا۔اب فرما ئیں میرے لئے کیا حکم ہے؟ نبی کریم نے اس پر خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے ثمامہ کو دنیا و آخرت کی بھلائی کی بشارت دی اور عمرہ کا ارادہ پورا کرنے کی ہدایت فرمائی۔وہ مکہ پہنچے۔کسی نے کہ دیا تم بھی صافی ہو گئے ہو؟ انہوں نے کہا نہیں میں مسلمان ہو کر محمد رسول اللہ پر ایمان لایا ہوں اور کان کھول کر سن لو! خدا کی قسم تمہارے پاس میرے علاقہ یمامہ سے غلہ کا ایک دانہ نہیں آئے گا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت عطا نہ فرمائیں۔(بخاری)14 بعد میں کفار قریش نے رسول اللہ کی سفارش کروائی تو ثمامہ نے ان کا غلہ کھول دیا۔واقعہ افک میں رسول اللہ کی فراست و بصیرت کا اظہار انسان کی صلاحیتیں اور اخلاق ابتلاء کے وقت خوب کھل کر سامنے آتے ہیں۔رسول اللہ کی قومی زندگی پر آنے والے ابتلاؤں کے ذکر کے ساتھ مناسب ہوگا کہ آپ کی ذات پر آنے والے ایک شدید ابتلاء میں ( جو کسی زلزلہ سے کم نہیں تھا) آپ کی حکمت و دانش اور فراست و بصیرت کے اظہار کا ذکر کیا جائے۔جس کا تعلق آپ کی عزیز ترین بیوی حضرت عائشہ بنت حضرت ابو بکر پر لگنے والے ایک جھوٹے الزام سے ہے۔جس نے ایک ماہ کے لئے رسول اللہ، آپ کے اہل بیت اور عشاق بلکہ پورے شہر مدینہ پر ایک زلزلہ طاری کئے رکھا۔بات اتنی سی تھی کہ غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر ایک پڑاؤ میں حضرت عائشہ علی اصبح قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئیں تو ان کے گلے کا ہار کہیں کھو گیا جس کی تلاش میں اتنی دیر ہوگئی کہ قافلہ کے لوگ ( یہ خیال کر کے کہ حضرت عائشہ اپنے ہودج میں ہیں ) ہو وج اونٹ پر رکھ کر روانہ ہو گئے۔حضرت عائشہ بعد میں ایک صحابی صفوان (جن کی قافلے کے پیچھے نگرانی کرتے ہوئے آنے کی ڈیوٹی تھی ) کے ساتھ دو پہر کو قافلہ سے آملیں۔عبد اللہ بن ابی کو اپنی بدطینتی سے بدگمانی کا موقع مل گیا اور اس نے حضرت عائشہ پر الزام تراشی شروع کر دی۔کئی دیگر سادہ لوح بھی اس رو میں بہ گئے۔اس تمام عرصہ میں سے رسول اللہ نے باوجود حکومت و طاقت کے نہ تو اشتعال میں آکر اپنی معصوم بیوی پر الزام لگانیوالوں کے خلاف کوئی انتہائی اقدام کیا جیسا کہ ایسے موقع پر بالعموم دنیا میں ہوتا ہے اور نہ ہی حضرت عائشہ سے کوئی استفسار تک ہی مناسب جانا۔حالانکہ صورتحال