اسوہء انسانِ کامل — Page 409
اسوہ انسان کامل 409 جنگوں میں رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی منافقین حسب معمول مختلف حیلوں بہانوں سے اس با مشقت کام میں شریک نہ ہوئے۔آنحضرت مسلمانوں کی حوصلہ افزائی اور ترغیب کی خاطر خود کھدائی کے کام میں شریک ہو کر مٹی ڈھوتے رہے، اور مسلسل دن رات ایک کر کے فاقہ کی حالت میں بھی اپنے انصار مہاجرین کے حوصلے بڑھانے کیلئے رجزیہ اور دعائیہ اشعار پڑھتے ہوئے بظاہر یہ کٹھن اور ناممکن کام چھ سے نو دن میں مکمل کر ڈالا۔(ابن سعد ( 12 جس میں گل 5544 میٹر (18189 فٹ) طویل اوسطاً 15 فٹ (4۔6 میٹر چوڑی اور 10۔5 فٹ (3۔2 میٹر گہری خندق تیار کر لی گئی۔مسلمانوں نے خندق کی مٹی شہر مدینہ کی جانب نکال کر اتنی ہی اونچی حفاظتی دیوار بھی اپنے اور دشمن کے درمیان حائل کر دی۔ادھر کفار کے لشکر اس دفعہ مدینہ کو تر نوالہ سمجھتے ہوئے شہر کو فتح کرنے کے خواب دیکھتے ہوئے آئے تو اچانک اپنے اور اس کے درمیان خندق حائل پا کر دنگ رہ گئے۔کیونکہ عربوں میں ایسی تدبیر کا رواج نہیں تھا۔پھر انہوں نے ناچار خندق کے سامنے ہی پڑاؤ کیا اور اس کے نسبتاً تنگ مقامات سے حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا اور بالآخر محاصرہ نا کام ہو جانے اور دیگر غذائی مسائل نیز سردی کی شدت اور اچانک آندھی وغیرہ کے باعث انہیں پسپا ہو کر لوٹنا پڑا۔(ابن سعد )13 حفاظت مدینہ اور گشتی دستوں کی حکمت عملی ہجرت مدینہ کے بعد سے مسلمانوں کو شمال سے اہل مکہ کے حملہ کا مستقل خطرہ رہتا تھا تو جنوب سے یہود خیبر کا۔شروع میں مدینہ کے ارد گرد کے قبائل بھی مسلمانوں کے حلیف نہیں بنے تھے۔اسلئے مسلمانوں کو پہرہ کے سخت حفاظتی اقدامات کرنا پڑتے تھے۔صحابہ کہا کرتے تھے کہ کوئی ایسا وقت بھی آئے گا جب ہم امن سے سو سکیں گے۔صلح حدیبیہ تک مسلمانوں کو باخبر رہنے اور اردگرد کے قبائل پر اپنے دفاع کی خاطر دھاک بٹھانے کے لئے مختلف اطراف میں مہمات بھجوانے کی ضرورت رہتی تھی۔خصوصاً ان علاقوں میں جہاں کفار مکہ کے حلیف قبائل آباد تھے۔تاکہ وہ اپنے علاقوں میں مسلمانوں کی موجودگی محسوس کرتے ہوئے انہیں چوکس پا کر مدینہ پر حملہ کی جرات نہ کر سکیں۔چنانچہ پاک بعض قبائل تو مدینہ کی کھجور کی گٹھلیاں اپنے گردو نواح میں پا کر اپنے علاقہ میں مسلمان دستوں کی موجودگی کا اندازہ کر کے بجائے حملہ کے اپنے دفاع پر مجبور ہو جاتے تھے۔اس حکمت عملی کا مدینہ کے دفاع کے علاوہ بھی بہت فائدہ ہوا۔اور بعض دشمن قبائل بھی صلح یا قبول اسلام پر آمادہ ہو گئے۔مسلمانوں کا ایک گھڑ سوار گشتی دستہ نجد کی مہم سے اپنے مخالف قبیلہ بنی حنیفہ کے ایک سردار ثمامہ بن اثال کو گرفتار کر کے لے آیا۔اسے مسجد نبوی میں ایک ستون کے ساتھ باندھ کر قید رکھا گیا۔مقصد یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کا طریق نماز اور دیگر اخلاق و اطوار وغیرہ دیکھ لے۔رسول اللہ نے ثمامہ سے پوچھا کہ تم سے کیا معاملہ کیا جائے ؟ اس نے کہا آپ احسان کرنے والے ہیں۔حسن سلوک کریں گے تو ایک شکر گزار انسان کے ساتھ یہ معاملہ کریں گے اور اگر قتل کریں گے تو میر اقبیلہ انتقام لے گا اور اگر آپ کو مجھے چھوڑنے کے عوض کوئی مال چاہئے تو مطالبہ پیش کریں۔حضور نے مزید سوچنے کا موقع دینے کے لئے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔اگلے روز پھر نبی کریم نے اس سے وہی سوال کیا۔وہ بولا میرا وہی