اسوہء انسانِ کامل — Page 399
اسوہ انسان کامل 399 غزوات النبی میں خلق عظیم کی ساری آبادی صدق دل سے آپ کے ساتھ ہوگئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم چند ہفتوں میں دو ہزار مکہ کے باسیوں کو مسلمانوں کی طرف سے (حنین میں ) لڑائی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔( میور ) 88 جس ایک مغنیہ سارہ نامی کے قتل کا ذکر سرولیم میور نے کیا ہے، روایات سیرت میں اس کی معافی کا بھی ذکر موجود ہے۔(ابن ھشام ) 89 پس فتح مکہ کا دن رسول اکرم کی ذات سے ہر تشدد کے الزام دور کرنے کا دن تھا۔جب مکہ کو پیغمبر اسلام کی شوکت و جلال نے ڈھانپ لیا تھا۔جب مسلمان فاتحین کے خوف سے عرب سرداروں کے جسم لرزاں تھے اور سینوں میں دل دھڑک رہے تھے۔جب مکہ کی بستی ایک دھڑکتا ہوا دل بن گئی تھی تو یہ وقت تھا کہ تلوار کے زور سے لوگوں کو مسلمان بنایا جاتا اور جائیدادوں پر قبضہ کیا جاتا لیکن یہ دن گواہ ہے کہ کہیں ایسا نہیں ہوا اور فتح مکہ کا یہ دن ابد الا باد تک محمدمصطفی ہے کی ذات سے جبر و تشدد کے الزام کی نفی کرتا رہے گا۔اطالوی مستشرقہ پروفیسر ڈاکٹر وگیری نے بحیثیت سپہ سالا رنبی کریم کے کردار پر تبصرہ اور اسلام سے جبر وتشدد کے الزام کی نفی کرتے ہوئے کیا خوب لکھا ہے:۔قر آن کریم کی علم اور نبی کریم کا کردار نوں گواہی دیت ہیںکہ یہ الزام سراسر جوتا ہے۔آپ نے جنگ کی لیکن یہ ایک ایسی جنگ تھی جس میں ایک فریق پیکر صبر تھا اور دوسرافریق پیکر تکبر۔یایہ ایسی جنگ تھی جس میں ایک شخص لڑ نانہ چاہتا ہوگر مجبوراً اسے ایسے دشمنوں کے خلاف لڑنا پڑے جو طاقت کے بل بوتے پر اسے نیست و نابود کرنے پر تلے ہوں۔۔۔پیغمبر اسلام کی تمام جنگیں بچے مذہب کو بچانے اور برقرار رکھنے کی غرض سے تھیں۔یہ جنگیں مقصود بالذات نہ تھیں اور بہر حال مدافعانہ تھیں نہ کہ جارحانہ۔قرآن شریف صاف فرماتا ہے اور اللہ کے راستے میں لڑوان سے جو تمہارے خلاف لڑتے ہیں لیکن زیادتی نہ کرو۔(بقرہ: 191) اگر ہم حملے کی پیشگوئیوں پر غور کریں یا مسلمانوں کی ابتدائی فتوحات کو دیکھیں تو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ یہ الزام کہ اسلام بزور شمشیر منوایا گیا اور اسلام جلدی سے پھیل جانا تلوار کی وجہ سے تھا سراسر لغو اور بے ہودہ ہے۔“ (دیگلیری) 90