اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 353 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 353

353 رسول اللہ کا استقلال اور استقامت اسوہ انسان کامل کا طواف فرمارہے تھے۔آپ کا ہاتھ ابوبکر کے ہاتھ میں تھا اور صحن کعبہ میں قریش کے تین سردار عقبہ بن ابی معیط، ابو جہل اور امیہ بن خلف بیٹھے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب طواف کرتے ہوئے ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔جس کا ناگوار اثر میں نے حضور کے چہرے پر محسوس کیا۔چنانچہ میں حضور کے اور قریب ہو گیا۔حضور میرے اور ابوبکر کے درمیان آگئے۔آپ نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں میرے ہاتھ میں ڈال لیں۔ہم نے اکٹھے طواف کیا۔جب اگلے چکر میں ہم ان کے پاس سے گزرے۔ابو جہل کہنے لگا ”ہماری تم سے مصالحت قطعی ناممکن ہے۔تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکتے ہو۔جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میری یہی تعلیم ہے۔“ طواف کے تیسرے چکر میں جب حضور ان کے پاس سے گزرے تو پھر انہوں نے ایسی ہی نازیبا حرکات کیں۔چوتھے چکر میں وہ تینوں اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔پہلے ابو جہل پکا وہ رسول اللہ کو گلے سے پکڑ کر دبوچنا چاہتا تھا۔میں نے اُسے سامنے سے روک کر دھکا دیا۔وہ پشت کے بل پیچھے جا گرا۔حضرت ابو بکڑ نے امیہ بن خلف کو پیچھے دھکیلا اور خو درسول اللہ نے عقبہ بن ابی معیط کو۔اسکے بعد وہ وہاں سے چلے گئے۔رسول اللہ وہاں کھڑے فرمارہے تھے ”خدا کی قسم ! تم باز نہیں آؤ گے یہاں تک کہ بہت جلد تم پر اللہ کی سزا اور گرفت اترے گی۔“ حضرت عثمان فرماتے تھے کہ خدا کی قسم میں نے دیکھا ان میں سے ہر ایک خوف سے کانپ رہا تھا اور رسول اللہ فرمارہے تھے تم اپنے نبی کی کتنی بری قوم ثابت ہوئے ہو۔پھر حضور اپنے گھر تشریف لے گئے اور دروازہ میں داخل ہونے کے بعد کھڑکی سے ہماری طرف رخ کر کے فرمایا تمہیں بشارت ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب اور اپنی بات پوری کر کے چھوڑے گا اور اپنے نبی کی مدد کرے گا۔اور یہ لوگ جن کو تم دیکھتے ہو اللہ تعالیٰ انہیں بہت جلد تمارے ہاتھوں سے ہلاک کرے گا۔“ پھر ہم اپنے گھروں کو چلے گئے۔حضرت عثمان کہتے تھے پھر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ خدا نے ان لوگوں کو ہمارے ہاتھوں سے ہلاک کیا۔( فتح )25 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ جبریل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔آپ مکہ سے باہر نکل رہے تھے۔اہل مکہ نے آپ کو لہو لہان کر دیا ہوا تھا۔جبریل نے پوچھا ” آپ کو کیا ہوا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ان لوگوں نے مجھے خون آلود کر کے چھوڑا ہے اور یہ یہ بد سلو کی میرے ساتھ کی ہے۔“ جبریل نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ میں ان کو ایک نشان دکھاؤں آپ نے فرمایا ہاں! جبریل نے کہا اس درخت کو بلائیں۔نبی کریم نے اسے بلایا وہ زمین پر نشان چھوڑتا ہوا آپ کے سامنے آکھڑا ہوا۔جبریل نے کہا ” اب اسے واپس پلٹ جانے کا حکم دیجئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واپس اپنی جگہ پر لوٹ جاؤ تو وہ واپس ہو گیا۔پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بس میرے لئے کافی ہے۔“ ( بیھقی ) 26