اسوہء انسانِ کامل — Page 332
اسوہ انسان کامل مہمان کی خدمت 332 نی کریم کا خُلق ، مہمان نوازی فتح خیبر کے موقع پر حبشہ کے مہاجرین حضرت جعفر طیار کی سرکردگی میں واپس لوٹے۔ان میں نجاشی کا بھیجا ہوا ایک وفد بھی تھا۔حضور خود ان لوگوں کی مہمان نوازی اور خدمت کی سعی فرماتے۔آپ کے صحابہ نے عرض کی کہ حضور تہم خدام جو خدمت کیلئے حاضر ہیں آپ کیوں تکلیف فرماتے ہیں۔آنحضرت نے فرمایا ان لوگوں نے ہمارے صحابہ کی عزت کی تھی میں پسند کرتا ہوں کہ خود اپنے ہاتھوں سے ان کی مہمان نوازی کروں کہ ان کے احسان کا یہی بدلہ ہے۔(الحلبیہ )7 نبی کریم ﷺ مہمان کے لئے حسب حال کھانے کا اچھا اہتمام فرماتے اور اپنے ہاتھ سے کھانا پیش کر کے خوش ہوتے۔حضرت مغیرہ بن شعبہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک دفعہ حضور ﷺ کے ہاں مہمانی کا شرف حاصل ہوا۔آپ نے ران بھونے کا حکم دیا اور پھر چھری لے کر گوشت کاٹ کاٹ کر مجھے عطا فرمانے لگے۔دریں اثناء بلال نے نماز کے لئے بلالیا تو فوراًنماز کیلئے تشریف لے گئے۔(ابوداؤد )8 نبی کریم کا دستور تھا کہ اگر کوئی ملاقاتی کھانے کے وقت آجائے تو اسے بلا تکلف کھانے میں شامل فرما لیتے تھے۔حضرت عبداللہ بن اُنیس بیان کرتے ہیں کہ میں بائیس رمضان کو لیلة القدر کے بارہ میں دریافت کرنے کیلئے حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ کے ساتھ نماز مغرب ادا کرنے کے بعد میں آپ کے دروازے پر کھڑا ہو گیا۔آپ نے فر ما یا اندر آ جاؤ۔آپ شام کا کھانا لے آئے اور محسوس کیا کہ میں کھانے کے کم ہونے کے باعث ہاتھ کھینچ رہا ہوں تو فرمایا لگتا ہے آپ کسی خاص کام سے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں مجھے بنی سلمہ نے آپ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھنے بھجوایا ہے۔آپ نے فرمایا آج کیا تاریخ ہے؟ میں نے کہا بائیس رمضان - فرمایا کل یعنی تئیس کی رات کولیلۃ القدر کی تلاش کرنا۔( ابوداؤد ) ایک دفعہ ایک یہودی آپ کے پاس مہمان ٹھہرا۔رات پیٹ کی خرابی کے باعث اس نے حضور کے بستر پر پاخانہ کر کے اُسے خراب کر دیا۔علی اصبح شرم کے مارے بغیر بتائے چپکے سے چلا گیا۔جلدی میں اپنی تلوار بھول گیا۔جب آگے جا کر اسے یاد آیا تو تلوار لیے واپس لوٹا۔کیا دیکھتا ہے کہ آنحضرت ﷺ بنفس نفیس اس کا گند بھرا بستر خود دھور ہے تھے۔(رومی ) 10 مہمان کی جملہ ضرورتوں کا خیال ابوعبداللہ بن طبقہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے پاس جب مہمان زیادہ ہو جاتے آپ نماز کے بعد صحابہ کو مسجد میں فرما دیتے تھے کہ جو آدمی اپنے ساتھ مہمان لے کر جا سکتا ہے لے جائے لیکن ایک رات مہمان اتنے زیادہ تھے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا ہر آدمی اپنے ساتھ ایک مہمان کو لے جائے تعمیل ارشاد ہوئی، اس کے باوجود پانچ مہمان بیچ رہے۔پانچواں میں تھا۔آنحضرت ہمیں اپنے ساتھ حضرت عائشہ کے گھر لے گئے۔آپ نے ان سے پوچھا کہ