اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 312 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 312

اسوہ انسان کامل 312 نبی کریم کا انفاق فی سبیل اللہ اور جود و سخا کھول کر یوں خرچ کر دوں اور لٹا دوں۔آپ نے دائیں بائیں اور آگے پیچھے ہاتھوں کے اشارے کر کے بتایا۔پھر فرمایا کہ جو لوگ زیادہ مالدار ہیں قیامت کے دن وہ گھاٹے میں ہوں گے۔سوائے ان کے جو اس طرح دائیں بائیں آگے اور پیچھے خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں مگر ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں۔“ ( بخاری )5 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں بھی یہی روح پیدا فرمانا چاہتے تھے۔آپ فرماتے تھے کہ ” قابل رشک ہے وہ انسان جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا اور پھر اس کے بر محل خرچ کرنے کی غیر معمولی توفیق اور ہمت بخشی۔( بخاری )6 حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین صدقہ کی یہ تعریف فرمائی کہ وہ صدقہ جو صحت کی حالت میں ذاتی ضرورت کے باوجود ایسے وقت میں دیا جائے جب افلاس کا اندیشہ ہو اور غنا کی امید۔ایسا صدقہ اجر میں سب سے بڑھ کر ہے۔پھر آپ نے یہ نصیحت فرمائی کہ کہیں ایسا نہ ہو خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے کے لئے زندگی کے آخری لمحات کا انتظار کرتے رہو۔جب جان کنی کا وقت آ جائے تو یہ فیصلے کرنے بیٹھو کہ اچھا اب اتنا فلاں کو دے دو اور اتنا فلاں کوی خری لمحوں کی اس دریا دلی کا کیا ثواب؟ جبکہ وہ مال پہلے ہی کسی اور کی ملکیت ہونے والا ہے۔( بخاری )7 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث قدسی بھی سنایا کرتے تھے کہ اللہ فرماتا ہے ”اے ابن آدم ! خرچ کرتا رہ۔میں تجھے عطا کرتا رہوں گا۔( بخاری 8) نیز فرمایا کہ غنایا امارت دولت کی کثرت کا نام نہیں بلکہ اصل امارت تو دل کا غنا ہے۔( بخاری )9 حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اپنی نسبتی ہمشیرہ حضرت اسماء بنت ابو بکر کونصیحت فرمائی کہ اللہ کی راہ میں گن گن کر خرچ نہ کیا کرو۔ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر ہی دے گا۔اپنی روپوؤں کی تھیلی کا منہ ( بخل سے ) بند کر کے نہ بیٹھ جانا ورنہ پھر اس کا منہ بند ہی رکھا جائے گا ( یعنی اگر کوئی روپیہ اس سے نکلے گا نہیں تو آئے گا کہاں سے؟ ) جتنی طاقت ہے دل کھول کر خرچ کیا کرو۔( بخاری ) 10 اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی خوشی اور انشراح صدر کا جو عالم تھا وہ اس بات سے خوب عیاں ہے جو آپ نے بخیل اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں جیسی بیان فرمائی جنہوں نے لوہے کے دو جسے سینے سے گلے تک پہن رکھے ہوں، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا جوں جوں خرچ کرتا جاتا ہے اس کا جبہ مزید کھلتا اور فراخ ہوتا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کے تمام جسم حتی کہ انگلیوں کے پوروں تک کو ڈھانک لیتا ہے۔( اور اس کا نشان تک مٹ جاتا ہے ) اور بخیل ہر دفعہ جب کچھ خرچ نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لوہے کے جبہ کے حلقے تنگ پڑتے جاتے ہیں وہ ان کو کشادہ کر نا چاہتا ہے۔مگر کر نہیں پاتا۔( یعنی سخت تنگی اور گھٹن کی کیفیت میں ہوتا ہے )۔( بخاری ) 11