اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 299 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 299

299 آنحضرت من الله بحیثیت معلم و مربی اعظم اسوہ انسان کامل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے مزاج کو سمجھتے تھے اور دراصل محبت کے ذریعہ ان کی تربیت فرماتے تھے۔بسا اوقات زبانی نصیحت کی بجائے محض آپ کا کوئی اشارہ یا اظہار نا پسندیدگی بہترین اور مؤثر نصیحت ہوتا تھا۔رسول اللہ کی مجلس میں ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت ابو بکر سے تکرار شروع کر دی اور انہیں بُرا بھلا کہنے لگا۔حضرت ابو بکر پہلے تو خاموشی اور صبر سے سنتے رہے مگر جب اس نے تیسری مرتبہ زیادتی کی تو آخر تنگ آکر ابوبکر نے اسے جواب دیا۔رسول کریم مجلس سے اٹھ کھڑے ہوئے۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ مجھ سے ناراض ہو کر جا رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا جب تک تم خاموش تھے، ایک فرشتہ آسمان سے آکر تمہاری طرف سے اس شخص کو جواب دے رہا تھا۔جب آپ خود بدلہ لینے پر اتر آئے تو وہ فرشتہ چلا گیا اور شیطان آ گیا۔اب میں ایسی مجلس میں کیسے بیٹھ سکتا ہوں۔( ابوداؤد ) 50 بر محل اظہار نا راضگی کسی بات پر برمحل ناپسندیدگی کا اظہار نبی کریم کے چہرے سے عیاں ہو جاتا تھا۔ایک دفعہ نجران سے ایک شخص آیا اس نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی۔رسول اللہ نے اس کی طرف کوئی توجہ فرمائی نہ اس سے کوئی بات چیت کی۔اس نے گھر جا کر اپنی بیوی سے سارا ماجرا کہہ سنایا۔بیوی نے کہا یقینا تمہاری اس بڑائی اور تکبر کے اظہار کے باعث حضور نے توجہ نہیں فرمائی۔اس لئے اب دوبارہ آنحضور کی خدمت میں ادب سے حاضری دو۔اس نے اپنی سونے کی انگوٹھی اور قیمتی چوغہ اُتارا اور دوبارہ جا کر ملاقات کی اجازت طلب کی۔حضور نے خوشی سے اجازت عطا فرمائی اور اس کے سلام کا جواب دیا۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ میں پہلے حاضر ہوا تھا تو آپ نے التفات نہیں فرمایا۔حضور نے فرمایا پہلے جب تم آئے تو تمہارے ہاتھ میں سونے کا انگارہ تھا۔وہ شخص جو نجران سے اس قسم کے سونے کے زیورات لیکر آیا تھا کہنے لگا حضور پھر تو میں بہت سارے انگارے ساتھ لایا ہوں۔آنحضور نے کس شانِ بے نیازی سے فرمایا کہ بے شک یہ دنیوی مقام اور فائدے کا سامان ضرور ہے۔مگر ہمارے نزدیک اس کی حیثیت ایک پتھر سے زیادہ کچھ نہیں۔تب اس صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے اپنے صحابہ کی موجودگی میں میرے ساتھ بے رخی برتی۔اب آپ صحابہ کے سامنے میری معذرت قبول فرما کر معافی کا اعلان بھی فرما دیں تا کہ ان کو یہ خیال نہ رہے کہ آپ مجھ سے ناراض ہیں۔اس حضور وہیں کھڑے ہو گئے اور اس شخص کی معذرت قبول کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا بے رخی کا رویہ اس شخص کی سونے کی انگوٹھی پہنے کی وجہ سے تھا۔(اس کی تو بہ اور اصلاح کے بعد مجھے اس سے اب کوئی ناراضگی نہیں رہی)۔(احمد )51 حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ یہودی ایام مخصوصہ میں عورتوں سے معاشرت نہیں کرتے تھے۔جب اس آیت فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ (سورۃ البقرہ: 223 کا حکم اترا یعنی ایام حیض میں عورتوں سے الگ رہو تو نبی کریم