اسوہء انسانِ کامل — Page 298
اسوہ انسان کامل 298 آنحضرت سے بحیثیت معلم و مربی اعظم حجتہ الوداع میں عرفات سے منی آتے ہوئے بعض لوگ اپنی سواریاں بھگا رہے تھے۔نبی کریم نے فرمایا لوگو اطمینان سے آؤ۔سوار یوں کو تیز بھگا کر لانا نیکی نہیں اس لئے درمیانی رفتار پر چلو۔( بخاری )44 حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے۔میں حضور کا خیمہ تیار کرتی تھی۔حضرت حفصہ نے بھی مجھ سے پوچھ کر اپنا خیمہ لگالیا۔ان کی دیکھا دیکھی ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش نے خیمہ لگوالیا۔صبح رسول اللہ نے کئی خیمے دیکھے تو پوچھا کہ کس کے خیمے ہیں۔آپ کو بتایا گیا کہ ازواج کے خیمے ہیں تو آپ ان سے ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم لوگ یہ (ریس کرنے کو) نیکی سمجھتے ہو۔پھر اس سال آپ نے اعتکاف رمضان نہیں فرمایا بلکہ شوال کے دس دن اعتکاف میں گزارے۔( بخاری ) 45 اس طرح آپ نے یہ تربیتی سبق دیا کہ ہمیشہ رضائے الہی مد نظر رکھنی چاہئے اور نیکی میں حسد نہیں رشک کا جذبہ پروان چڑھنا چاہئے۔رسول کریم دین میں سختی اور تشد دبھی پسند نہ فرماتے تھے تا کہ لوگ دین سے دور نہ ہوں۔اسی لئے تلقین فرماتے تھے کہ ہمیشہ آسانی پیدا کرو۔مشکل پیدا نہ کرو۔ابو مسعود انصاری بیان کرتے ہیں ایک دفعہ ایک شخص نے شکایت کی کہ میں اپنے محلے کی مسجد میں باجماعت نماز اس لئے ادا نہیں کرتا کہ ہمارا امام بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے۔ابو مسعود کہتے ہیں کہ میں نے کبھی نصیحت کے وقت رسول اللہ کو اس قدر غصے میں نہیں دیکھا جتنا غصہ اس بات پر آپ کو آیا۔آپ فرمانے لگے لوگو! تم دین سے نفرت دلاتے ہو جو شخص بھی نماز میں امام ہو وہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ نماز میں بیمار، کمزور اور کام والے بھی ہوتے ہیں۔( بخاری )46 آپ فرمایا کرتے تھے کہ خوشی اور بشارت کی باتیں بتایا کرو۔نفرت پیدا کرنے والی باتیں نہ کیا کرو۔اس حکمت کے تحت آپ وعظ ونصیحت میں ناغہ کرنا پسند کرتے تھے تا کہ لوگ اکتا نہ جائیں۔( بخاری )47 تربیت کے لئے آغاز میں چھوٹی سی نیکی کی عادت ڈالنا اور انگلی سے پکڑ کر چلانا پڑتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ وہ نیکی پسند فرماتے تھے جو عارضی نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی جائے۔فرماتے تھے کہ بہترین عمل وہ ہے جس پر دوام اختیار کیا جائے خواہ وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ایک عورت کے بارہ میں پتہ چلا کہ بہت زیادہ نمازیں پڑھتی ہے۔اسے نصیحت فرمائی کہ اتنی عبادت کرو جتنی طاقت ہے کیونکہ اللہ تو نہیں اکتا تا۔لیکن بندہ تھک ہار کر نیکی چھوڑ بیٹھتا ہے۔( بخاری )48 بعض نوجوانوں کے ہمیشہ عبادت کرنے روزے رکھنے اور ترک دنیا کے ارادوں کا علم ہوا تو انہیں ایسا کرنے سے ختی سے منع فرما دیا۔انہوں نے عرض کیا ہم آپ کی طرح نہیں ہیں اللہ نے تو آپ کو بخش دیا ہے۔حضور ناراض ہوئے اور فرمایا میں تم میں سے سب سے بڑھ کر اللہ کا تقویٰ رکھتا ہوں۔میری سنت پر چلو۔میں سونا بھی ہوں ، روزے سے ناتھہ بھی کرتا ہوں اور شادی بھی کی ہے۔( بخاری ) 49