اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 286 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 286

اسوہ انسان کامل 286 آنحضرت له بحیثیت معلم و مربی اعظم اعف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بحیث بحیثیت معلم و مربی ا ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم عرب کی ایسی ان پڑھ قوم میں مبعوث کئے گئے جو گمراہی میں اپنی مثال نہ رکھتی تھی۔آپ نے اپنے حسن اخلاق ، محبت و شفقت اور دعاؤں سے ان بدوؤں کی ایسے اعلیٰ درجے کی تربیت فرمائی اور ان کے سینہ و دل کو ایسا منور کیا کہ وہ آسمان روحانیت کے روشن ستارے بن گئے۔میہ کرامت در اصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن کردار اور پاکیزہ عملی نمونہ کی تھی۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اس شخص سے بہتر کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے اور عمل صالح بجالائے اور کہے کہ میں کامل فرمانبردار ہوں۔“ (سورۃ حم السجدہ: 34) اس ارشادربانی کے اول مصداق ہمارے نبی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔آپ ہی کی ذات ہے جسے جماعت مومنین کے لئے بہترین نمونہ قراردیا گیا۔(سورۃ الاحزاب:22) تربیت کیلئے قرآن شریف کا بنیادی اُصول یہ ہے قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَار ( سورۃ التحریم: 7) یعنی اپنے نفس اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔نبی کریم نے اس ارشاد کی تعمیل میں گھر کی اکائی (Unit) سے تربیت کا سلسلہ شروع کیا اور اپنا عملی نمونہ پیش کر کے اپنے اہل خانہ کی تربیت فرمائی۔قرآن شریف کے بیان کے مطابق رسول اللہ ازواج مطہرات کو یہ نصیحت فرماتے تھے۔"اے نبی کی بیویو! تم ہر گز عام عورتوں جیسی نہیں ہو بشر طیکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔پس بات لجا کر نہ کیا کرو۔ورنہ وہ شخص جس کے دل میں مرض ہے طمع کرنے لگے گا اور اچھی بات کہا کرو اور اپنے گھروں میں ہی رہا کرو اور گزری ہوئی جاہلیت کے سنگھار جیسے سنگھار کی نمائش نہ کیا کرو اور نماز کو قائم کرو اورزکوۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔اے اہل بیت ایقینا اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی آلائش دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح پاک کردے اور اللہ کی آیات اور حکمت کو جنکی تمہارے گھروں میں تلاوت کی جاتی ہے یادرکھو۔یقیناً اللہ بہت باریک ربین اور باخبر ہے۔“ ( سورۃ الاحزاب : 33 تا35) اہل خانہ کی تربیت نبی کریم نے گھر میں نماز تہجد میں با قاعدگی اور دوام کا خوبصورت نمونہ قائم فرمایا پھر ازواج مطہرات کو بھی بیدار کر کے نوافل ادا کرنے کی تلقین فرماتے۔ایک دفعہ انہیں کیسی درد انگیز تحریک کرتے ہوئے فرمایا ”سبحان اللہ ! آج رات کتنے ہی فتنوں کی خبر میں نازل کی گئی ہیں اور کتنے ہی خزانے اُتارے گئے ہیں۔ان گجروں میں سونے والی بیبیوں کو جگاؤ اور بتاؤ کہ کتنی ہی عورتیں دنیا میں بظاہر خوش پوش ہیں مگر قیامت کے دن وہ حقیقی لباس سے عاری ہونگی ( جو تقویٰ کا لباس ہے۔)‘ ( بخاری ) 1